احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رہنماوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے جو بورڈ بنایا گیا ہے وہ بورڈ آف پیس نہیں بلکہ جنگیں شروع کرنے کا نیا بورڈ ہے، امریکہ اور اسرائیل مشرق وسطی کے بعد پوری دنیا کو جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے، امریکہ سن لے ایران نہ وینزویلا ہے نہ عراق و افغانستان، اگر ایران پر حملہ ہوا تو پھر امریکہ و اسرائیل کہیں بھی محفوظ نہیں ہونگے۔  اسلام ٹائمز ۔ مجلس وحدت مسلمین ضلع ملتان اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ضلع ملتان کے زیراہتمام حکومت پاکستان کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے خلاف نماز جمعہ کے بعد امام بارگاہ ابو الفضل العباس سے چوک کمہاراں والا تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی کی قیادت مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی رہنما انجینئر سخاوت علی سیال، ضلعی صدر عون رضا انجم ایڈووکیٹ، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری سروش زیدی، ریجنل صدر علی مصدق، مولانا مجاہد جعفری، مولانا غلام جعفر انصاری نے کی۔ ریلی میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکائے ریلی نے امریکہ و اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کے نعرے لگائے، احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رہنماوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے جو بورڈ بنایا گیا ہے وہ بورڈ آف پیس نہیں بلکہ جنگیں شروع کرنے کا نیا بورڈ ہے، امریکہ اور اسرائیل مشرق وسطی کے بعد پوری دنیا کو جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے، امریکہ سن لے ایران نہ وینزویلا ہے نہ عراق و افغانستان، اگر ایران پر حملہ ہوا تو پھر امریکہ و اسرائیل کہیں بھی محفوظ نہیں ہونگے۔

رہنماوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں جانا نظریہ پاکستان کی توہین اور سنگین خلاف ورزی ہے، بابائے قوم نے پہلے ہی انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل ناجائز ریاست ہے اسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا، بورڈ آف پیس میں شمولیت اور اسرائیل کیساتھ ایک میز پر بیٹھنا پاکستان سے خیانت ہے، اگر حکمران سچے ہیں تو پھر بورڈ آف پیس پر ریفرنڈم کرائیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، ایران غزہ و فلسطین سمیت مظلوموں کی توانا آواز اور ان کیساتھ کھڑا ہے اسی وجہ سے قیمت ادا کر رہا ہے، پاکستان کی عوام خطے میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرئے گی۔ احتجاجی ریلی میں مرکزی صدر ایمپلائزونگ سلیم عباس صدیقی، صوبائی رہنما ایمپلائز ونگ غلام حسنین انصاری، عاطف حسین سرانی، ضلعی صدر آئی ایس او ملتان مطہر عباس، اظہر جوئیہ، وحدت یوتھ کے رہنما حسنین عباس و دیگر شریک تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: احتجاجی ریلی بورڈ آف پیس کے بعد

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار