امریکہ اسرائیل پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، انتونیو گوتریس
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
نیویارک:(ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے خطرناک نتائج سے خبردار کرتے ہوئے امن، انصاف اور پائیدار ترقی کے لیے نئی اور مؤثر کوششوں پر زور دیا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں، انسانی امداد میں کمی، موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بے ضابطہ طاقت عالمی نظام کو مزید غیر مستحکم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی ادارہ جاتی ڈھانچہ پرانا ہو چکا ہے اور بدلتی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔
انتونیو گوتریس نے مضبوط کثیر الجہتی اداروں، مصنوعی ذہانت کے عالمی نظم و نسق اور ترقی پذیر ممالک کے لیے فنڈ کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے موسمیاتی انصاف، مالیاتی اصلاحات اور پائیدار امن کے عزم کا اعادہ کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اسرائیل پر اثر انداز ہونے کی سب سے زیادہ صلاحیت امریکہ کے پاس ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے حل کے لیے اپنے اتحادی پر دباؤ ڈالنے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو دباؤ ڈالنا ہوگا اور حقیقت یہ ہے کہ وہ ملک جس کے پاس اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی سب سے زیادہ طاقت ہے وہ امریکہ ہے، اسی لیے یہ اہم تھا کہ امریکہ نے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔