Islam Times:
2026-06-02@23:36:29 GMT

امریکہ اور ایران تصادم، خطے کی نئی شکل کو جنم دے گا(1)

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

امریکہ اور ایران تصادم، خطے کی نئی شکل کو جنم دے گا(1)

اسلام ٹائمز: ایران کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف بے حد سخت اور زیادہ سے زیادہ دباؤ پر مبنی ہے، جس میں روایتی سفارت کاری کے لیے گنجائش نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ واشنگٹن کا مطالبہ کسی حد تک تبدیلی نہیں بلکہ مکمل سرِتسلیم خم کرنا ہے۔ ایران کی جوہری صلاحیت کا مکمل خاتمہ، اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی سخت تحدید اور خطے میں موجود اس کے پراکسی نیٹ ورک کا خاتمہ، یہ تمام مطالبات مل کر ایران کی دفاعی حکمتِ عملی اور خطے میں اثر و رسوخ کے دعوے کی بنیاد پر کاری ضرب لگاتے ہیں۔ تہران کے نقطۂ نظر سے یہ نیک نیتی پر مبنی مذاکرات نہیں بلکہ ایک ایسا الٹی میٹم ہے، جس کا مقصد خود نظام کا خاتمہ ہے۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان

مغربی ایشیاء میں حالیہ دنوں امریکہ، اسرائیل اور ایران کا تصادم ہے۔ یہ تصادم نہ جانے کس وقت ایک جنگ کی صورت اختیار کرے یا نا کرے، لیکن خطے پر اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یقنی طور پر ہم ایک ایسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں کہ جس کے اختتام پر خطے کی صورتحال سمیت غرب ایشیاء کی شکل بھی تبدیل ہوگی یعنی یا امریکہ کا بیان کردہ نیا مشرق وسطیٰ یا دوسری شکل میں گریٹر اسرائیل یا پھر ایک خود مختار مشرق وسطیٰ یا مغربی ایشیاء جنم لے گا۔ حالیہ صورتحال میں ایک سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کہ کیا امریکہ ایران پر حملہ کرے گا۔؟ کرے گا تو پھر کب کرے گا۔؟ واشنگٹن کی جانب سے ملنے والے اشارے یا امریکی افواج کی نقل و حرکت اور امریکی صدر ٹرمپ کی باڈی لینگویج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران پر امریکی فوجی حملہ قریب المدت ہوسکتا ہے۔

یعنی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر آئندہ چند دنوں یا ہفتوں میں امریکہ باقاعدہ ایران پر حملہ کرے گا، لیکن اس سے قبل امریکی حکمت عملی کے مطابق اس وقت ایران کو نفسیاتی اور جنگی دبائو میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ایران کے خلاف نفسیاتی دبائو کے لئے امریکی بحری اور فضائی اثاثوں کو خطے بھر میں ازسرِنو تعینات کیا گیا ہے، جو دباؤ ڈالنے والی فوجی کارروائی کی ایک روایتی تمہید سمجھی جاتی ہے۔ یہ محض طاقت کا اظہار نہیں بلکہ وہی آزمودہ پیش خیمہ ہے، جو عراق (2003ء)، لیبیا (2011ء) اور شام (2017ء اور 2018ء) میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس کارروائی کا مقصد علاقائی قبضہ نہیں بلکہ مفلوج کرنا ہوگا: یعنی ریاست کی گرفت کمزور کرنے اور اندرونی انہدام کی راہ ہموار کرنے کے لیے حکومتی کمانڈ مراکز، انٹیلی جنس ڈھانچے، فضائی دفاعی نظام اور اندرونی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنانا۔

امریکہ کی جانب سے اس تمام تر فوجی نقل و حرکت کا ایک مقصد اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران کو سمندری حصار میں لینا چاہتا ہے اور ایران کی تیل، گیس اور پیٹرو کیمیمل کی برآمدات کو بالکل ختم کرنا چاہتا ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں امریکی حکومت ایران کے عوام کو بھوکا مار دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ یعنی ایران کو اندرونی طور پر دبائو کے ساتھ ساتھ فوجی دبائو میں لینے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایران اپنے تیل، گیس اور پیٹرو کیمیکل کی برآمدات سے سالانہ 300 ارب ڈالر سے 400 ارب ڈالر کما سکتا ہے، لیکن امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی یہ کمائی گذشتہ 15 سالوں میں صرف 100 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے اور حالیہ دنوں امریکی پابندیوں کی وجہ سے 40 ارب ڈالر تک رہ گئی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کو بالکل محتاج کر دے اور اپنی شرائط کے مطابق من مانی کرے۔ امریکہ کی ایسی ہی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ایران نے ایک مضبوط موقف اختیار کیا ہے۔

اس تمام تر صورتحال کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کا ظاہری منصوبہ قبضہ نہیں بلکہ شدید صدمہ پہنچانا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ حکومت کو اس قدر سخت اور نہایت درست انداز میں نشانہ بنایا جائے کہ وہ ایک منظم ریاست کے طور پر کام کرنے کے قابل نہ رہے۔ حکومت کی پشت پناہی کرنے والا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا جائے گا، سلامتی اور انٹیلی جنس کا نظام مفلوج ہو جائے اور وہ خوف جو معاشرے کو جمود میں رکھے ہوئے ہے، ٹوٹ جائے گا۔ اس خلا میں بڑے پیمانے پر عوامی بے چینی کے پھوٹ پڑنے کی توقع کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں اندرونی قوتوں اور اپوزیشن نیٹ ورکس کو آگے بڑھ کر ریاستی اداروں پر قبضہ کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ حکمتِ عملی ایک نہایت خطرناک مفروضے پر قائم ہے کہ ایرانی ریاست پہلے ہی اندر سے کمزور اور کھوکھلی ہوچکی ہے اور وفاداری کے بجائے زیادہ تر خوف کے سہارے قائم ہے۔ اس حساب سے جیسے ہی خوف کا پردہ ہٹایا جائے گا، عوامی غصہ جو طویل عرصے سے جمع ہو رہا ہے، اس عمل کو مکمل کر دے گا، جس کا آغاز بیرونی طاقت محض کرتی ہے۔

یہ وہ سب باتیں ہیں، جو اس وقت امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ سمیت مغربی اتحادیوں نے مشترکہ منصوبہ بندی کے تحت ایران کے بارے میں سوچ رکھی ہے اور اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش اور پوری طاقت بھی استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت کا ایک اور رخ بھی ہے، وہ یہ ہے کہ گذشتہ دنوں ایران میں دس دن تک ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کے بعد لاکھوں ایرانی شہری مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے تھے اور ان شہریوں میں حکومت کے حامیوں سمیت مخالفین کو بھی دیکھا گیا، جو کسی نہ کسی وجہ سے حکومت کی پالیسی پر نالاں تھے، لیکن اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کوئی بیرونی قوت آکر ایران میں دخل اندازی کرے اور ایرانی عوام کو غلام بنا لے یا جیسا کہ ان دنوں تین ہزار سے زائد معصوم ایرانی شہریوں کو قتل کیا گیا، یہ سب ہر ایرانی شہری کے لئے ناقابل قبول ہے۔ ایران کی زمینی صورتحال کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق کا تجزیہ کیا جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل سمیت تمام اتحادیوں کے اندازے غلط ہیں۔

اب اگر امریکہ اور اس کے اتحادی اس تمام تر زمینی حقائق کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے ایران پر حملہ کرتے ہیں تو پھر ایران کا جواب بھی بھرپور ہوگا۔ دوسری طرف ایران نے اپنا مؤقف واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔ ایرانی قیادت کے اعلیٰ عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی حملے کا فوری جواب دیا جائے گا۔ ایران کے دفاعی نظریئے میں غیر متناسب ردِعمل پر زور دیا جاتا ہے۔ جس میں میزائل، ڈرونز، سائبر کارروائیاں اور خطے بھر میں پراکسی اقدامات شامل ہیں۔ یہ محض دھمکی نہیں ہے۔ ایران عراق اور خلیجی خطے میں امریکی اثاثوں کے خلاف حملہ کرنے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کرچکا ہے اور اس کے پاس آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کو متاثر کرنے کے وسائل بھی موجود ہیں، جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے یا شاید اس سے بھی کچھ زیادہ۔

ایران کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف بے حد سخت اور زیادہ سے زیادہ دباؤ پر مبنی ہے، جس میں روایتی سفارت کاری کے لیے گنجائش نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ واشنگٹن کا مطالبہ کسی حد تک تبدیلی نہیں بلکہ مکمل سرِتسلیم خم کرنا ہے۔ ایران کی جوہری صلاحیت کا مکمل خاتمہ، اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی سخت تحدید اور خطے میں موجود اس کے پراکسی نیٹ ورک کا خاتمہ، یہ تمام مطالبات مل کر ایران کی دفاعی حکمتِ عملی اور خطے میں اثر و رسوخ کے دعوے کی بنیاد پر کاری ضرب لگاتے ہیں۔ تہران کے نقطۂ نظر سے یہ نیک نیتی پر مبنی مذاکرات نہیں بلکہ ایک ایسا الٹی میٹم ہے، جس کا مقصد خود نظام کا خاتمہ ہے۔ ان شرائط کو قبول کرنے کا مطلب اُنہی ذرائع اور صلاحیتوں سے دستبردار ہونا ہوگا، جو ایک مخاصمانہ جغرافیائی و سیاسی ماحول میں ریاست کو زندہ رکھتے ہیں۔ اسی لیے ایران کے لیے ایسے مطالبات تسلیم کرنا انتہائی بعید از قیاس ہے، جو اس کے دفاع کو ختم کر دیں اور ساتھ ہی یہ مفروضہ قائم رکھیں کہ نظام کسی طرح سلامت بھی رہ سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ہے کہ امریکہ اور خطے میں اور ایران نہیں بلکہ ارب ڈالر ایران پر کہ ایران ایران کو کا خاتمہ ایران کی ایران کے جائے گا اور اس رہی ہے کے لیے ہے اور کرے گا

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار