گل پلازہ: مشاورت کی ضرورت نہیں‘ حکومت خود انکوائری کرا سکتی ہے‘ سندھ ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ گل پلازہ کی انکوائری سے متعلق جوڈیشل انکوائری کیلئے خط کا جواب دے دیا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ نے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 ء کے تحت حکومت خود انکوائری کرا سکتی ہے، انکوائری ایکٹ کے تحت سابق جج یا کسی قانونی ماہر پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری نہیں۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفہ دعا میں پاکستان کی بقا و سلامتی، سانحہ گل پلازہ کے شہدا اور کراچی میں ٹریفک حادثات میں جاں بحق افراد کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ پیپلز پارٹی کی رکن ہیر سوہو نے لاہور کے واقعے پر دعا کی درخواست کرتے ہوئے طنزیہ طور پر سوال کیا کہ کیا اب لاہور کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ ہو گا۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور ایم کیو ایم کے رہنما علی خورشیدی نے اراکین اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ صوبائی حکومت کے طرز حکمرانی پر تنقید کی ہے، کراچی میں پہلے ہی بنیادی ضروریات زندگی کا فقدان نظر آتا ہے، انکوائری میں بتایا گیا کہ اب جوڈیشل کمیشن بنانا ہو گا، یہی مطالبہ ہم کر رہے تھے۔ علی خورشیدی نے صوبائی ایوان میں حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے عوام کا مقدمہ لڑا اور الحمدللہ کامیاب بھی ہوئی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے کراچی کا مقدمہ نہیں لڑا۔ میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ جو کھالیں جمع کرتے ہیں یا کھالیں کھینچتے ہیں ان سے امید نہ رکھیں، جماعت اسلامی والے کہتے ہیں اچھا ہے تو انہوں نے کیا، برا ہے پیپلزپارٹی نے کیا۔ دریں اثناء کراچی میں ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ سندھ پولیس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیر محمد شاہ کی جگہ مظہر نواز شیخ کو ڈی آئی جی ٹریفک کراچی تعینات کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیر محمد شاہ کو گل پلازہ سانحہ کے بعد ٹریفک کا انتظام نہ کرنے پر عہدے سے ہٹایا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :