Juraat:
2026-07-24@07:39:41 GMT

وادی تیراہ میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

وادی تیراہ میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں
گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپریشن کیے جا رہے ہیں، قبائلی عوام اور معززین کی مشاورت سے ہی تمام فیصلے کیے جاتے ہیں،سینئر صحافیوں کو بریفنگ

کراچی میں سیکیورٹی حکام نے میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے مختلف سوالات کے جواب دیے۔ سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ خیبر کے علاقے تیراہ میں کسی بڑے فوجی آپریشن کا آغاز نہیں کیا گیا، بلکہ وہاں صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف صرف IBOs کیے جا رہے ہیں، جو دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر حکمتِ عملی ثابت ہوئے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مستند انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں اور یہ سلسلہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ تیراہ میں بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ ہے۔ نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے اور نہ ہی اندر یا باہر جانے کے لیے نئی چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی کہا کہ موجودہ موسم کسی بڑے آپریشن کے لیے موزوں نہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا گیا ہے، جبکہ فوج اور عوام کے درمیان رشتے میں کوئی بھی منفی بیانیہ دراڑ نہیں ڈال سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام اور معززین کی مشاورت سے ہی تمام فیصلے کیے جاتے ہیں اور یہ فیصلے مقامی لوگوں کی رائے اور خواہشات کے مطابق ہوتے ہیں۔ مشاورت کے عمل میں ہمیشہ مقامی حالات اور روایات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ بریفنگ میں بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ فتنہ الہندوستان دراصل عوام کی سہولتوں اور ترقی کا دشمن ہے۔ احساسِ محرومی کا نعرہ لگا کر دہشت گردی کرنے والوں کو بلوچستان کے عوام اب بخوبی پہچان چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سیکیورٹی ذرائع بڑے ا پریشن انٹیلی جنس میں کوئی

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار