عوام ایس ایچ او کے نوکر نہیں، درخواست میں بخدمت نہیں لکھا جائے، سپریم کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کو درخواست میں بخدمت جناب لکھنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے ور اس عمل کو نوآبادیاتی سوچ قرار دیے دیا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور نے فیصلہ تحریر کیا، جس میں قرار دیا ہے کہ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے اور عوام اس کے نوکر نہیں ہیں لہٰذا ایس ایچ او کو صرف جناب ایس ایچ او لکھا جائے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پرانی غلامانہ زبان ختم کی جاتی ہے، ایف آئی آر درج کروانے والا شہری شکایت کنندہ نہیں بلکہ اطلاع دہندہ ہوگا، “کمپلیننٹ” کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایت تک محدود ہے۔
سپریم کورٹ نے پولیس کارروائی میں “فریادی” کا لفظ بھی ممنوع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ “فریادی” رحم مانگنے کا تاثر دیتا ہے، حق مانگنے کا نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر ناقابل قبول ہے، پولیس افسران کو سخت وارننگ دی جاتی ہے، ایف آئی آر میں تاخیر پر PPC 201 کے تحت مقدمہ بن سکتا ہے کیونکہ ایف آئی آر میں تاخیر سے شواہد ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ نے جوڈیشل لا کلرک محمد سبحان ملک کے نکتے پر واضح ہدایات کی گئی ہے اور قرار دیا ہے کہ پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح، ریاستی رویے میں بڑی تبدیلی ضروری ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ 30 جنوری 2026 کو سنایا گیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سپریم کورٹ ایس ایچ او ایف آئی آر
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔