شام کے قنیطرہ صوبے میں اسرائیلی طیاروں کا ایک ہفتے میں تیسری مرتبہ نامعلوم مادے کا چھڑکاؤ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں ایک ایسا طیارہ دکھائی دیتا ہے جو اسرائیلی زرعی طیارہ معلوم ہوتا ہے، جو قنیطرہ کے وسطی علاقے سعیدہ حانوت میں زرعی علاقوں کے اوپر کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے ایک نامعلوم مادہ چھڑک رہا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ طیارہ زرعی زمین پر اسپرے کی کارروائی انجام دے رہا تھا، جس سے علاقے کے مکینوں اور کسانوں میں شدید تشویش پھیل گئی۔ اسلام ٹائمز۔ شام کے قنیطرہ صوبے میں ایک ہفتے کے دوران تیسری مرتبہ اسرائیلی کے ذریعے نامعلوم مادے کا چھڑکاؤ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز شام کے صوبہ قنیطرہ میں زرعی زمین کے اوپر ایک اسرائیلی طیارے کی پرواز کی ویڈیو سامنے آئی، جو مقامی رپورٹس کے مطابق ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں پیش آنے والا تیسرا اور صرف دو دنوں میں دوسرا واقعہ ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں ایک ایسا طیارہ دکھائی دیتا ہے جو اسرائیلی زرعی طیارہ معلوم ہوتا ہے، جو قنیطرہ کے وسطی علاقے سعیدا حانوت میں زرعی علاقوں کے اوپر کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے ایک نامعلوم مادہ چھڑک رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ طیارہ زرعی زمین پر اسپرے کی کارروائی انجام دے رہا تھا، جس سے علاقے کے مکینوں اور کسانوں میں شدید تشویش پھیل گئی۔ شام کے محکمۂ زراعت کے مطابق جمعے کو پیش آنے والے اسی نوعیت کے واقعے کے بعد متاثرہ علاقوں سے نمونے حاصل کیے گئے تاکہ چھڑکے گئے مادے کا تجزیہ کیا جا سکے، تاہم تاحال کسی سرکاری نتیجے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ یہ تازہ واقعہ اسی ہفتے رپورٹ ہونے والے دو سابقہ واقعات کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں اسرائیلی زرعی طیاروں کو قنیطرہ کی زرعی زمین پر مادے چھڑکتے ہوئے فلمایا گیا تھا، جس سے ممکنہ ماحولیاتی اور صحت کے نقصانات کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
جڑی بوٹی مار ادویات یا جراثیم کش سپرے؟
رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ فرض کرنا آسان ہے کہ اسرائیلی قابض ریاست کیڑے مار ادویات استعمال کر رہی ہے، لیکن اس کا اس سے کوئی براہِ راست فائدہ یا مفاد وابستہ نہیں۔ تاہم اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ وسیع اثر رکھنے والی جڑی بوٹی مار ادویات استعمال کر رہے ہیں، جن کا مقصد پورے علاقے کو درختوں اور نباتات سے خالی کرنا ہے تاکہ انہیں بہتر عسکری نگرانی حاصل ہو سکے۔ صیہونی حکومت نے یہی ماڈل جنوبی لبنان میں بھی اپنایا تھا، تاہم وہاں جڑی بوٹی مار ادویات کے بجائے جاری جنگ کو جواز بنا کر سفید فاسفورس کا استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے وسیع رقبے کو جلا کر راکھ کر دیا گیا تاکہ نگرانی اور کنٹرول کو بہتر بنایا جا سکے۔ درختوں اور قدرتی جھاڑیوں کا خاتمہ قابض ریاست کو ہدف بنائے گئے علاقوں پر بہتر نظر رکھنے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ درخت اور گھنی نباتات چھپنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔
قنیطرہ میں زرعی زمین اسرائیلی جارحیت کا نشانہ
شام کے دیہی علاقے قنیطرہ سے تعلق رکھنے والے مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی قابض افواج نے قنیطرہ کے شمالی دیہی علاقے میں واقع جباتا الخشب کے مضافات میں زرعی زمین کو نشانہ بناتے ہوئے مارٹر گولوں کے ذریعے زمین صاف کرنے کی کارروائیاں انجام دیں۔ اس حملے کے نتیجے میں زرعی زمین کو مادی نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اسی دوران ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیارے درعا اور قنیطرہ دونوں صوبوں کی فضاؤں میں منڈلاتے رہے۔ یہ پروازیں مقبوضہ شامی جولان کے محاذ پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ہوئیں۔ جمعرات کو قنیطرہ سے آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج کا ایک گشتی دستہ، جس میں چار بکتر بند گاڑیاں اور فوجی سوار تھے، علی الصبح سمدانیہ الغربیہ گاؤں میں داخل ہوا۔ اس دراندازی کی نوعیت اور مقصد تاحال واضح نہیں ہو سکا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ اسرائیلی مار ادویات کے مطابق شام کے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی