اسرائیلی فوج کا غزہ میں 71 ہزار فلسطینیوں کو شہید کرنیکا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں شہید ہونے والوں پر مشتمل ہیں جبکہ ملبے تلے دبے لاپتا افراد، بھوک اور بیماری سے ہونے والی اموات اس میں شامل نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی فوج نے غزہ میں 71 ہزار فلسطینیوں کو شہید کرنے کا اعتراف کر لیا۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک سینیئر فوجی عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ حماس کے زیرانتظام غزہ کی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار مجموعی طور پر درست ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں شہید ہونے والوں پر مشتمل ہیں جبکہ ملبے تلے دبے لاپتا افراد، بھوک اور بیماری سے ہونے والی اموات اس میں شامل نہیں۔
اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق ہلاکتوں میں عام شہریوں اور جنگجوؤں کے تناسب کے تعین کا تاحال جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کو مسترد کرتا رہا تھا، تاہم اقوام متحدہ ان اعداد و شمار کو قابل اعتماد قرار دیتی رہی ہے۔ یاد رہے کہ غزہ وزارتِ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے اب تک 71 ہزار 667 فلسطینی اسرائیلی حملوں میں شہید ہوچکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔