آلو کی قیمتیں زمین بوس، کاشت کار اور مڈل مین شدید بحران کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور :ملک میں اس سال آلو کی ریکارڈ پیداوار کا فائدہ کسانوں کے بجائے الٹا ان کے لیے شدید معاشی بحران بن گیا ہے۔ آلو کی قیمتیں اس حد تک گر چکی ہیں کہ ڈھائی سے تین لاکھ روپے فی ایکڑ لاگت سے تیار ہونے والی فصل 40 سے 50 ہزار روپے میں بھی فروخت نہیں ہو پا رہی، جس کے باعث نہ صرف کاشت کار بلکہ مڈل مین اور آڑھتی بھی سخت پریشانی کا شکار ہیں۔
کاشت کاروں کے مطابق افغانستان اور ایران کے ساتھ زمینی سرحدیں بند ہونے کے باعث آلو کی برآمدات تقریباً رک چکی ہیں، جس کا براہِ راست اثر پنجاب بھر کی منڈیوں میں پڑا ہے، خریدار نہ ہونے کی وجہ سے کئی علاقوں میں آلو کی تیار فصل کھیتوں میں ہی پڑی سڑ رہی ہے جبکہ کولڈ اسٹوریج میں آلو محفوظ کرنا بھی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے کیونکہ ذخیرہ کرنے کی لاگت نکلنا ممکن نہیں رہا۔
آڑھتیوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں آلو کو کم قیمت پر خرید کر کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کیا جاتا تھا اور بعد ازاں صارفین کو 100 سے 150 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جاتا تھا، لیکن اس سال صورتحال یکسر مختلف ہے، اب 10 روپے فی کلو پر بھی آلو خریدنے والا کوئی نہیں، جس سے پورا سپلائی چین متاثر ہو چکا ہے۔
کولڈ اسٹوریج مالکان کے مطابق جن کاشت کاروں نے آلو ذخیرہ کروا رکھے تھے وہ بھی اب لینے نہیں آ رہے کیونکہ انہیں مزید نقصان کا خدشہ ہے، مجبوری کے تحت آلو جانوروں کے چارے کے طور پر انتہائی کم قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی حد تک نقصان کم کیا جا سکے۔
محکمہ زراعت کے حکام کا کہنا ہے کہ انہیں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ آلو کی زیادہ سے زیادہ برآمدات کے مواقع پیدا کیے جائیں، کسانوں کے مطابق عملی اقدامات تاحال نظر نہیں آ رہے۔
آلو کے کاشت کاروں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدات کے راستے کھولے جائیں، سبسڈی یا سپورٹ پرائس کا اعلان کیا جائے اور کسانوں کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جائے، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ سیزن میں آلو کی کاشت ممکن نہیں رہے گی، جس سے مستقبل میں قلت اور قیمتوں میں اچانک اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔