data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور :ملک میں اس سال آلو کی ریکارڈ پیداوار کا فائدہ کسانوں کے بجائے الٹا ان کے لیے شدید معاشی بحران بن گیا ہے۔ آلو کی قیمتیں اس حد تک گر چکی ہیں کہ ڈھائی سے تین لاکھ روپے فی ایکڑ لاگت سے تیار ہونے والی فصل 40 سے 50 ہزار روپے میں بھی فروخت نہیں ہو پا رہی، جس کے باعث نہ صرف کاشت کار بلکہ مڈل مین اور آڑھتی بھی سخت پریشانی کا شکار ہیں۔

کاشت کاروں کے مطابق افغانستان اور ایران کے ساتھ زمینی سرحدیں بند ہونے کے باعث آلو کی برآمدات تقریباً رک چکی ہیں، جس کا براہِ راست اثر پنجاب بھر کی منڈیوں میں پڑا ہے، خریدار نہ ہونے کی وجہ سے کئی علاقوں میں آلو کی تیار فصل کھیتوں میں ہی پڑی سڑ رہی ہے جبکہ کولڈ اسٹوریج میں آلو محفوظ کرنا بھی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے کیونکہ ذخیرہ کرنے کی لاگت نکلنا ممکن نہیں رہا۔

آڑھتیوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں آلو کو کم قیمت پر خرید کر کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کیا جاتا تھا اور بعد ازاں صارفین کو 100 سے 150 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جاتا تھا، لیکن اس سال صورتحال یکسر مختلف ہے، اب 10 روپے فی کلو پر بھی آلو خریدنے والا کوئی نہیں، جس سے پورا سپلائی چین متاثر ہو چکا ہے۔

کولڈ اسٹوریج مالکان کے مطابق جن کاشت کاروں نے آلو ذخیرہ کروا رکھے تھے وہ بھی اب لینے نہیں آ رہے کیونکہ انہیں مزید نقصان کا خدشہ ہے، مجبوری کے تحت آلو جانوروں کے چارے کے طور پر انتہائی کم قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی حد تک نقصان کم کیا جا سکے۔

محکمہ زراعت کے حکام کا کہنا ہے کہ انہیں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ آلو کی زیادہ سے زیادہ برآمدات کے مواقع پیدا کیے جائیں، کسانوں کے مطابق عملی اقدامات تاحال نظر نہیں آ رہے۔

آلو کے کاشت کاروں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدات کے راستے کھولے جائیں، سبسڈی یا سپورٹ پرائس کا اعلان کیا جائے اور کسانوں کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جائے، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ سیزن میں آلو کی کاشت ممکن نہیں رہے گی، جس سے مستقبل میں قلت اور قیمتوں میں اچانک اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں آلو آلو کی

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا