نوجوانوں کی آگاہی کے لیے مؤثر اقدام: آئی ایس پی آر ونٹر انٹرنشپ کے تحت قلعہ بالاحصار پشاور کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
اسلام آباد (طارق محمود سمیر) آئی ایس پی آر کا ونٹر انٹرنشپ پروگرام 12 جنوری سے ملک بھر میں بھرپور انداز میں جاری ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو قومی سلامتی، تاریخ اور افواجِ پاکستان کے کردار سے آگاہ کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت تعلیمی سیشنز کے ساتھ ساتھ مختلف آؤٹ ڈور سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسی سلسلے میں خیبرپختونخوا کی مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات نے قلعہ بالاحصار (پشاور) کا مطالعاتی دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد نوجوان نسل کو قومی تاریخ، دفاعی اہمیت اور پاک فوج کی قربانیوں سے روشناس کرانا تھا۔ طلبہ نے قلعہ بالاحصار کی تاریخی، دفاعی اور تہذیبی حیثیت کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں اور اس عظیم ورثے کو قریب سے دیکھنے کا موقع پایا۔
دورے کے دوران آئی جی فرنٹیئر کور نارتھ کی طلبہ و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست بھی منعقد کی گئی، جس میں انہیں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور درپیش چیلنجز پر جامع بریفنگ دی گئی۔ آئی جی ایف سی نارتھ نے طلبہ کے سوالات کے تسلی بخش، مدلل اور تفصیلی جوابات دے کر نوجوانوں کے ذہنوں میں موجود ابہام کو دور کیا۔
شرکاء نے یادگارِ شہداء پر پھول چڑھا کر وطنِ عزیز کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں طلبہ نے فرنٹیئر کور میوزیم کا دورہ کیا جہاں انہیں ایف سی کی تاریخ، خدمات اور قربانیوں سے آگاہی حاصل ہوئی۔
اس موقع پر طلبہ کا کہنا تھا کہ قلعہ بالاحصار کے دورے نے انہیں تاریخ کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ شرکاء کے مطابق اس تاریخی دورے نے نوجوانوں کو ماضی سے سیکھنے اور اپنی تاریخ پر فخر کرنے کی ترغیب دی۔ طلبہ نے فرنٹیئر کور کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس مثبت اور قابلِ تحسین اقدام پر منتظمین کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: قلعہ بالاحصار
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز