data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ نے ایک بار پھر عالمی سطح پر تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق صورتحال کے پیش نظر چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے متعدد ممالک نے اپنے ہوائی اڈوں پر صحت کی جانچ پڑتال سخت کر دی ہے تاکہ وائرس کی سرحد پار منتقلی کو روکا جا سکے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ نیپاہ وائرس اگرچہ نایاب ہے، مگر اس کی شرحِ اموات نسبتاً زیادہ ہونے کے باعث اسے انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

نیپاہ وائرس دراصل ہینیپا وائرسز کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے، جس میں ہینڈرا وائرس بھی شامل ہے۔ یہ ایک زونوٹک وائرس ہے، یعنی یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس وائرس کا قدرتی میزبان پھل کھانے والی چمگادڑیں سمجھی جاتی ہیں، جو مختلف طریقوں سے وائرس کو ماحول میں پھیلا سکتی ہیں۔

ایشیا میں وقتاً فوقتاً نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اس کا پہلا بڑا آؤٹ بریک 1998 میں ملائیشیا میں رپورٹ ہوا تھا، جہاں بڑی تعداد میں افراد متاثر ہوئے۔ بعد ازاں بھارت اور بنگلا دیش میں بھی اس وائرس کے کیسز سامنے آتے رہے، جس کے بعد اسے عالمی ادارۂ صحت کی نگرانی میں شامل کر لیا گیا۔

ماہرین کے مطابق نیپاہ وائرس بنیادی طور پر 3 مختلف طریقوں سے پھیل سکتا ہے۔ پہلا ذریعہ متاثرہ چمگادڑیں ہیں، جن کے تھوک، پیشاب یا فضلے سے وائرس پھلوں یا دیگر اشیا کو آلودہ کر دیتا ہے۔ بعض مواقع پر متاثرہ جانور، جیسے خنزیر، بھی انسانوں میں وائرس منتقل کرنے کا ذریعہ بنے ہیں۔

دوسرا اہم ذریعہ آلودہ خوراک ہے، خاص طور پر کھجور کے درخت کا رس۔ اگر یہ رس متاثرہ چمگادڑ کے جسمانی اخراجات سے آلودہ ہو جائے تو اسے پینے والے افراد میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بنگلا دیش میں سامنے آنے والے متعدد کیسز اسی ذریعے سے منسلک پائے گئے تھے۔

تیسرا ذریعہ انسان سے انسان میں منتقلی ہے، جو اگرچہ نسبتاً کم عام ہے، مگر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ قریبی جسمانی رابطے، تیمارداری یا اسپتالوں میں متاثرہ مریض کے جسمانی اخراجات کے ذریعے وائرس منتقل ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیپاہ وائرس کے لیے اب تک کوئی مخصوص ویکسین یا مکمل علاج دستیاب نہیں، اسی لیے احتیاطی تدابیر، جلد تشخیص اور قرنطینہ انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ کیسز کے بعد دنیا بھر میں صحت کے ادارے الرٹ ہو چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیپاہ وائرس وائرس کے

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ