نیپاہ وائرس کیا اور کیسے پھیلتا ہے؟ عالمی نظامِ صحت کیلیے نیا چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ نے ایک بار پھر عالمی سطح پر تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق صورتحال کے پیش نظر چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے متعدد ممالک نے اپنے ہوائی اڈوں پر صحت کی جانچ پڑتال سخت کر دی ہے تاکہ وائرس کی سرحد پار منتقلی کو روکا جا سکے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ نیپاہ وائرس اگرچہ نایاب ہے، مگر اس کی شرحِ اموات نسبتاً زیادہ ہونے کے باعث اسے انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
نیپاہ وائرس دراصل ہینیپا وائرسز کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے، جس میں ہینڈرا وائرس بھی شامل ہے۔ یہ ایک زونوٹک وائرس ہے، یعنی یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس وائرس کا قدرتی میزبان پھل کھانے والی چمگادڑیں سمجھی جاتی ہیں، جو مختلف طریقوں سے وائرس کو ماحول میں پھیلا سکتی ہیں۔
ایشیا میں وقتاً فوقتاً نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اس کا پہلا بڑا آؤٹ بریک 1998 میں ملائیشیا میں رپورٹ ہوا تھا، جہاں بڑی تعداد میں افراد متاثر ہوئے۔ بعد ازاں بھارت اور بنگلا دیش میں بھی اس وائرس کے کیسز سامنے آتے رہے، جس کے بعد اسے عالمی ادارۂ صحت کی نگرانی میں شامل کر لیا گیا۔
ماہرین کے مطابق نیپاہ وائرس بنیادی طور پر 3 مختلف طریقوں سے پھیل سکتا ہے۔ پہلا ذریعہ متاثرہ چمگادڑیں ہیں، جن کے تھوک، پیشاب یا فضلے سے وائرس پھلوں یا دیگر اشیا کو آلودہ کر دیتا ہے۔ بعض مواقع پر متاثرہ جانور، جیسے خنزیر، بھی انسانوں میں وائرس منتقل کرنے کا ذریعہ بنے ہیں۔
دوسرا اہم ذریعہ آلودہ خوراک ہے، خاص طور پر کھجور کے درخت کا رس۔ اگر یہ رس متاثرہ چمگادڑ کے جسمانی اخراجات سے آلودہ ہو جائے تو اسے پینے والے افراد میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بنگلا دیش میں سامنے آنے والے متعدد کیسز اسی ذریعے سے منسلک پائے گئے تھے۔
تیسرا ذریعہ انسان سے انسان میں منتقلی ہے، جو اگرچہ نسبتاً کم عام ہے، مگر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ قریبی جسمانی رابطے، تیمارداری یا اسپتالوں میں متاثرہ مریض کے جسمانی اخراجات کے ذریعے وائرس منتقل ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیپاہ وائرس کے لیے اب تک کوئی مخصوص ویکسین یا مکمل علاج دستیاب نہیں، اسی لیے احتیاطی تدابیر، جلد تشخیص اور قرنطینہ انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ کیسز کے بعد دنیا بھر میں صحت کے ادارے الرٹ ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیپاہ وائرس وائرس کے
پڑھیں:
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔
U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔