پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس سنگین مسئلہ،مصطفی کمال
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وزارتِ صحت اور ڈریپ کا ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کیخلاف عالمی تعاون اور مقامی تیاری کی جانب اہم قدم،وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس میں چین کی معروف دواسازکمپنی کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس میں پاکستان میں تیزی سے پھیلتے ہوئے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس سے نمٹنے کیلیے اقدامات کاجائزہ لیا گیا،چینی کمپنی نے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا تھراپی (HH-003) کی پیش رفت سے آگاہ کیا،فیز ٹوکے بین الاقوامی کلینیکل ٹرائلز مکمل کرنیوالی دواکو امریکن فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے علاج کیلیے بریک تھرو تھراپی کادرجہ دیاہے ۔
وزیر صحت نے کہاکہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹاسنگین طبی مسئلہ بنتاجارہاہے، ہیپاٹائٹس ڈیلٹا (HDV) جگر متاثرکرنیوالاخطرناک وائرس ہے جوصرف اس صورت میں بیماری پیداکرتاہے، جب اسکے ساتھ ہیپاٹائٹس بی وائرس بھی موجود ہو۔
مزید پڑھیںیونیورسل ہیلتھ کوریج کے تحت اب شہری نجی اسپتالوں میں مفت علاج کروا سکتے ہیں، مصطفیٰ کمال
ہیلتھ کیئر کا معاملہ نیشنل سیکیورٹی کا سنگین مسئلہ بن چکا ہے، مصطفیٰ کمال
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں دس لاکھ سے زائدافراداس مرض سے متاثر ہیں،بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کے سبب جگرکے کینسر کاسبب بن سکتاہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی کے تقریباً 20 فیصدمریض ہیپاٹائٹس ڈیلٹاسے بھی متاثر ہوسکتے ہیں،حکومتِ اس دواکی سستی اور پائیدار فراہمی کو یقینی بنانے کیلیے اقدامات کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان میں
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔