جج نے ٹرمپ کے ووٹنگ حکم کے اہم حصے روک دیے
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
جج نے ٹرمپ کے ووٹنگ حکم کے اہم حصے روک دیے WhatsAppFacebookTwitter 0 31 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن (شاہ خالد خان) ایک وفاقی عدالت کی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جاری کردہ حکم کے چند بڑے حصوں پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ یہ حکم ووٹ ڈالنے کے لیے نام لکھوانے اور پوسٹ سے ووٹ بھیجنے میں امریکی شہریت کا ثبوت لازمی کرنے کے بارے میں تھا۔
جج نے فیصلہ دیا کہ یہ حکم آئین کے خلاف ہے کیونکہ ووٹنگ کے قواعد ریاستوں اور کانگریس بناتی ہیں، صدر اکیلے یہ قواعد نہیں بدل سکتا۔
اس حکم میں تین بڑی باتیں تھیں جو اب نافذ نہیں ہوں گی:
وفاقی فارم پر شہریت کا کاغذ دکھانا لازمی کرنا۔ غریبوں کو ملنے والی مدد لینے والوں کی شہریت چیک کرکے ہی فارم دینا۔ فوج میں کام کرنے والوں اور باہر ملک رہنے والے امریکیوں سے بھی شہریت کا ثبوت مانگنا۔یہ فیصلہ کئی مقدموں کے بعد آیا جن میں ڈیموکریٹک پارٹی، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کئی ریاستیں شامل تھیں۔
ٹرمپ کی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ حکم انتخابات کو محفوظ رکھنے کے لیے ہے، مگر مخالفین کہتے ہیں کہ اس سے بہت سے لوگوں کو ووٹ ڈالنے میں دشواری ہوتی۔
اب حکومت ان حصوں کو نافذ نہیں کر سکتی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعالمی ثالثی عدالت کا بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم پن بجلی منصوبوں کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم پن بجلی منصوبوں کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم عمران خان صحت مند اور ٹھیک ہیں، ہر چیز کی پریس ریلیز ضروری نہیں ہوتی، طلال چوہدری اسحاق ڈار کی زیر صدارت اعلی سطح کا بین وزارتی اجلاس، پاک یورپی یونین کے تجارتی تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال حکومت نے پی آئی اے کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری ترجیح قرار دیدی ماں بیٹی کی مین ہول میں گر کر ہلاکت کو فیک نیوز کہنے پروزیر اطلاعات عظمی بخاری کیخلاف مقدمے کی درخواست ایمان مزاری ٹوئٹس کیس کا فیصلہ، عدالت کا ایران و دیگر ممالک سے متعلق پیراگراف حذف کرنے کا حکمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔