ایران کے خلاف دھمکیاں عراق جنگ جیسی ہیں، سابق IAEA سربراہ کا اظہار تشویش
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
سابق عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ ڈاکٹر محمد البرادعی نے ایران کے خلاف جاری دھمکیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال عراق جنگ سے قبل کی جیسی ہے، جب غیر اخلاقی اور غیر قانونی اقدامات کے ذریعے جنگ کی راہ ہموار کی گئی تھی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق البرادعی نے کہا کہ آج انسانی زندگی اور خطے میں تباہی کو سنجیدہ مسئلہ نہیں سمجھا جا رہا، اور ہم ماضی سے سبق سیکھنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف یک طرفہ دھمکیاں ایسے وقت جاری کی جا رہی ہیں جب ایران کی جانب سے کوئی واضح یا فوری خطرہ موجود نہیں ہے۔
ڈاکٹر البرادعی نے مزید کہا کہ ایران پر حملوں کی دھمکیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہیں اور اس طرح کی کارروائیاں خطے میں غیر ضروری کشیدگی پیدا کرتی ہیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی برادری کو ایران کے معاملے میں احتیاط، مکالمہ اور قانونی ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے تاکہ تاریخی غلطیوں کو دہرانے سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایران کے
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔