وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری، کیا مقدمات کے باعث ان کی کرسی خطرے میں ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ریاستی اداروں کے خلاف الزامات لگانے کے کیس میں اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی نے رات گئے اڈیالہ جیل کے باہر سے دھرنا ختم کیوں کیا؟
پاکستان تحریک انصاف کے مطابق وزیراعلیٰ بننے کے بعد سہیل آفریدی کے خلاف مقدمات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ کیس کی اگلی سماعت 10 فروری کو ہو گی۔
سہیل آفریدی کے خلاف کتنے مقدمات ہیں؟پاکستان تحریک انصاف لائر ونگ کے مطابق سیاسی مخالف حکومت سہیل آفریدی کے خلاف کیسز بنا رہی ہے تاکہ انہیں عدالتی معاملات میں الجھایا جا سکے۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے البتہ اسلام آباد میں کیسز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے علم میں 2 کیسز ہیں جن میں سہیل آفریدی کو نامزد کیا گیا ہے‘۔
شاہ فیصل نے بتایا کہ ایک کیس اسلام آباد مارچ کے حوالے سے ہے جبکہ ایک کیس حالیہ دنوں میں درج ہوا ہے۔ اے جی خیبر پختونخوا نے بتایا کہ انہوں نے ہائیکورٹ میں درخواست دی ہے کہ پولیس وزیراعلیٰ کے خلاف درج کیسز کی تفصیلات فراہم کرے۔
مزید پڑھیے: منتیں، چیخیں اور سپریم کورٹ کے باہر کا منظر، سہیل آفریدی پریشان، مریم نواز نے سب کو ہلا دیا
ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ کیسز کی تفصیلات دی جائیں۔”
ریڈیو پاکستان ویڈیو میں سہیل آفریدی کی شناختریڈیو پاکستان کیس میں ویڈیو کی فرانزک رپورٹ میں سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ریڈیو پاکستان کے وکیل کے مطابق پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وزیراعلیٰ کو ایف آئی آر میں نامزد کرے۔
ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی کے مطابق ویڈیو پشاور پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی تھی جس میں سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر پولیس نے سہیل آفریدی کو نامزد نہیں کیا تو وہ عدالت میں درخواست دائر کریں گے۔
وزیراعلیٰ کے خلاف کیسز، کیا سہیل آفریدی مشکل میں ہیں؟پاکستان تحریک انصاف لائر ونگ کے مطابق سہیل آفریدی کے خلاف کیسز سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان کیسز سے سہیل آفریدی کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں ہو گا۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق ان کیسز سے سہیل آفریدی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
قانون دان اور ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی کے مطابق ایف آئی آر میں نامزدگی اور عدالتی کیسز وزیراعلیٰ ہو یا کوئی سرکاری ملازم، سب کے لیے خطرہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں قانون کی نظر سے دیکھتا ہوں، اور اگر کیسز مضبوط ہوں تو کرسی کے لیے خطرہ ہوتا ہے‘۔
مزید پڑھیں: ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے کا کیس: سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
شبیر حسین نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان کیس میں ویڈیو کی فرانزک رپورٹ میں سہیل آفریدی کی تصدیق ہوئی ہے اور یہ ایک سنگین کیس ہے جس میں توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ، تشدد اور حملے کی دفعات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات ثابت ہو جائیں اور شواہد کافی ہوں تو سزا ہو سکتی ہے جس سے کرسی بھی جا سکتی ہے‘۔
شبیر حسین گیگیانی نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کیے جا چکے ہیں اور حملے کی ویڈیوز اور فرانزک رپورٹ بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر فیصلے موجود ہیں جہاں صرف ویڈیوز کی بنیاد پر سزا ہوئی ہے تو ریڈیو پاکستان کیس میں بھی ویڈیوز اور رپورٹ موجود ہے جس میں سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کیس میں کسی بھی پبلک آفس ہولڈر کو سزا ہوتی ہے تو وہ اپنے عہدے سے محروم ہو جاتا ہے اور اگر وزیراعلیٰ کو بھی کسی کیس میں سزا ہوتی ہے تو وہ نااہل ہو جائیں گے اور الیکشن کمیشن ان کی رکنیت ختم کر دے گا۔
عثمان دانش پشاور کے کورٹ رپورٹر ہیں اور سہیل آفریدی کے خلاف کیسز کی عدالتی کارروائی کور کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی کیس کو ہلکا نہیں لیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں ریڈیو پاکستان کیس کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا تھا تاہم فرانزک رپورٹ آنے کے بعد پی ٹی آئی کے وکلا نے بھی اسے سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو بھٹو کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہوئی تھی جو بعد میں پھانسی کی سزا پر منتج ہوئی۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کیسز سیاسی نوعیت کے ہو سکتے ہیں مگر ان کی سماعت باقاعدگی سے ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وادی تیراہ میں آپریشن کی اجازت کس نے دی، اور سہیل آفریدی کو قتل کی دھمکیوں میں کتنی حقیقت ہے؟
اصل بات گواہوں اور شواہد کی ہے اور اکثر کیسز میں سزا لوئر کورٹ سے ہی ہو جاتی ہے۔
عثمان دانش نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے کئی منتخب اراکین کو اسی نوعیت کے کیسز میں سزا ہو چکی ہے جن میں جلاؤ گھیراؤ، حملہ اور تشدد شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور ایم این اے این اے ون عبداللطیف کو بھی ایسے ہی کیسز میں سزا ہوئی، عمر ایوب کے حلقے میں دوبارہ انتخابات ہوئے اور پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں چونکہ پی ٹی آئی کی حکومت ہے، اس لیے پولیس آزادانہ کام شاید نہ کر سکے، لیکن اسلام آباد اور دیگر شہروں میں درج کیسز زیادہ خطرناک ہیں۔
مزید پڑھیں: مجھے نااہل کرانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دعویٰ
انہوں نے کہا کہ عمر ایوب اور دیگر رہنماؤں کو بھی اسلام آباد اور دیگر شہروں میں درج مقدمات میں سزا ہوئی ہے، اور سہیل آفریدی کے خلاف اسلام آباد میں درج کیسز سے انہیں زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دو کیسز ہیں، جبکہ کتنے مزید کیسز ہیں، اس کا علم پی ٹی آئی کو بھی نہیں۔ انہوں نے مزید کہ یہ کیسز ان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: دہشتگردی پر پی ٹی آئی کا خطرناک مؤقف، سہیل آفریدی کا اگلا ہدف کیا ہوگا؟
عثمان دانش کے مطابق سہیل آفریدی کے طاقتور حلقوں کے ساتھ تعلقات بھی بہتر نہیں ہیں اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو یہی کیسز ان کی کرسی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں جس کا سہیل آفریدی کو بھی بخوبی اندازہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خیبر پحتونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی کرسی کو خطرہ سہیل آفریدی کے خلاف مقدمات سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبر پحتونخوا کے وزیراعلی سہیل ا فریدی خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی کی کرسی کو خطرہ سہیل ا فریدی کے خلاف مقدمات سہیل ا فریدی کے وارنٹ گرفتاری سہیل آفریدی کے خلاف انہوں نے کہا کہ اگر میں سہیل آفریدی کی ریڈیو پاکستان کیس سہیل آفریدی کو پختونخوا سہیل خیبر پختونخوا فریدی کے خلاف فرانزک رپورٹ کے خلاف کیسز سہیل ا فریدی کے لیے خطرہ کے خلاف کیس نے بتایا کہ اسلام آباد میں سزا ہو پی ٹی آئی کے مطابق فریدی کو کیسز ہیں فریدی کی کی تصدیق کیس میں ہیں اور ہوئی ہے کو بھی
پڑھیں:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔
کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔
کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔
کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔
مزید :