عمران خان کے ذاتی معالجین کو ملاقات کی اجازت نہ دینے پر سیاسی کشیدگی بڑھ گئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گزشتہ دو دنوں میں پیش آنے والے واقعات پر سخت مذمت اور شدید غصے کا اظہار کیا ہے، ایک صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا وہ نہ صرف قابلِ افسوس بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ انہیں دو راتوں سے سڑکوں پر بٹھایا گیا ہے، ایک رات وہ رات تین بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر موجود رہے جبکہ صبح دس بجے سے سپریم کورٹ کے باہر بیٹھنے پر مجبور ہیں،یہ طرزِ عمل کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں اور اس سے ریاستی رویوں پر سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے بانی پاکستان تحریک انصاف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے سب سے مقبول ترین لیڈر ہیں مگر ان کی صحت کے معاملے میں سنگین غفلت برتی جا رہی ہے، بانی پی ٹی آئی کو ایسے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی بیماری کی درست تشخیص کے لیے متعلقہ ماہر ڈاکٹرز موجود ہی نہیں تھے، جو ایک تشویشناک امر ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ان کا مطالبہ نہایت سادہ اور انسانی بنیادوں پر ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ ان کی صحت کا درست انداز میں معائنہ اور علاج ممکن ہو سکے، یہ مطالبہ کسی سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ایک قیدی کے بنیادی انسانی حق کے طور پر کیا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ وہ اور ان کی جماعت آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر جدوجہد اور مکالمے پر یقین رکھتے ہیں، اگر تمام راستے بند کر دیے جائیں، دروازے مقفل کر دیے جائیں اور دیوار سے لگا دیا جائے تو پھر پرامن احتجاج ہر شہری اور منتخب نمائندے کا آئینی حق بن جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے نہ کہ طاقت اور دباؤ کے ذریعے، ایسے اقدامات سے نہ صرف سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کا نظامِ انصاف اور ریاستی اداروں پر اعتماد بھی مجروح ہوگا۔
آخر میں سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر فوری نظرثانی کی جائے، ان کے طبی حقوق کو یقینی بنایا جائے اور سیاسی معاملات کو آئینی اور جمہوری طریقے سے حل کرنے کی راہ ہموار کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی نے
پڑھیں:
دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس دوران دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات
مزید :