لاہور میں بسنت کیلئے اسپیڈو اور گرین الیکٹرک بسوں کو ثقافتی رنگوں سے سجادیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
لاہور میں بسنت کیلئے اسپیڈو اور گرین الیکٹرک بسوں کو ثقافتی رنگوں سے سجا دیا گیا۔لاہور میں بسنت کی تیاریاں عروج پر ہیں، ایسے میں اسپیڈو اور گرین الیکٹرک بسیں بھی ثقافتی رنگوں سے سج گئی ہیں جبکہ 6 سے 8 فروری تک بسنت کے 3 روز کے دوران مفت سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔اس حوالے سے وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب کا کہنا ہے کہ میٹرو، اورنج لائن، اسپیڈو اور الیکٹرک بسوں میں لوگ مفت سفر کرسکیں گے۔بسنت کے لیے ضلع لاہور اور پنجاب کی حدود کے باہر سے پتنگ بازی کا سامان لانے کی مشروط اجازت دی گئی ہے، دھاتی ڈور اور ممنوعہ کیمیکل کے استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہوگی۔ادھر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بسنت کے تینوں دن اچھا موسم ہوگا، بادلوں کے ساتھ ساتھ اچھی ہوائیں بھی چلیں گی اور لاہور والے موسم بہار کے تہوار کو بھرپور طریقے سے انجوائے کر سکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسپیڈو اور
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔