لاہور: ماں اور بیٹی کی ہلاکت کیس میں پولیس انکوائری مکمل، ایس پی سٹی اور ایس ایچ او بھاٹی زین قصور وار قرار
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حکم پر بھاٹی کے علاقے میں جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر پر تشدد کے معاملے کی انٹرنل کاؤنٹیبلٹی برانچ نے اپنی انکوائری مکمل کر لی ہے۔
پولیس کے مطابق انکوائری ایڈیشنل آئی جی عمران محمود، ڈی آئی جی ناصر عزیز ورک اور ڈی آئی جی عمران کشور نے کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایس پی سٹی بلال اور ایس ایچ او بھاٹی زین کیس میں قصور وار پائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، دونوں افسران نے غلام مرتضیٰ کو تھانے بھاٹی لے جایا اور اس کے ساتھ آنے والے رشتہ داروں سے پوچھ گچھ نہیں کی۔ پولیس نے غلام مرتضیٰ پر ایس ایچ او کے کمرے میں تشدد کیا، جس کا ثبوت کمرے میں نصب کیمروں کی ویڈیو سے بھی مل گیا۔ غلام مرتضیٰ کو تقریباً 5 گھنٹے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا۔
انکوائری ٹیم نے غلام مرتضیٰ کا شور کوٹ جا کر بیان بھی ریکارڈ کیا۔ غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ پولیس افسران نے اسے بیوی اور بیٹی کے قتل کا الزام قبول کرنے پر دباؤ ڈالا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں پولیس افسران نے واقعے کو غیر پیشہ وارانہ طریقے سے ہینڈل کیا۔ ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے اور رپورٹ آئی جی پنجاب کو پیش کی گئی ہے جو وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کریں گے۔
میڈیا پر غلام مرتضیٰ پر تشدد کی خبر نشر ہونے کے بعد ایس ایچ او کو معطل بھی کیا جا چکا ہے۔ پولیس افسران نے وضاحت میں کہا کہ ریسکیو اور دیگر اداروں کی معلومات کے مطابق خاتون کا ڈوبنا ناممکن تھا، اس لیے شبے میں ہم نے غلام مرتضیٰ کو تھانے لے جایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے غلام مرتضی ایس ایچ او افسران نے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔