وینزویلا کی تیل صنعت پر امریکی پابندیوں میں نرمی، برآمدات بحال ہونے کی امید
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا نے عالمی توانائی منڈی میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں وینزویلا کی تیل صنعت پر عائد بعض اہم پابندیوں میں نرمی کا اعلان کر دیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وینزویلا کے لیے ایک نیا جنرل لائسنس جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت تیل کی معمول کی لین دین، فروخت، ترسیل، ریفائننگ اور برآمدات سے متعلق سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے، خصوصاً امریکی کمپنیوں اور اداروں کے لیے یہ راستہ دوبارہ کھل گیا ہے۔
محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد وینزویلا کی توانائی صنعت میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کو مستحکم رکھنا ہے۔ حالیہ مہینوں میں دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث امریکا کو اپنی توانائی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑی، جس کے نتیجے میں یہ قدم اٹھایا گیا۔
دوسری جانب اس فیصلے پر عالمی ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ چین نے امریکا کے اس اقدام پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن تیل کی فراہمی کے نام پر وینزویلا پر دباؤ ڈال کر اس کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
امریکا میں چین کے سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگ یو نے واضح کیا کہ وینزویلا ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے، جسے اپنے قدرتی وسائل اور معاشی سرگرمیوں پر مکمل اختیار حاصل ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔
چینی ترجمان نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ان بیانات پر بھی ردعمل دیا، جن میں کہا گیا تھا کہ چین وینزویلا سے تیل عالمی منڈی کی قیمتوں پر خریدے گا۔ چین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات دراصل سیاسی مقاصد کے تحت دیے جا رہے ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
بیجنگ نے زور دیا کہ توانائی سے متعلق معاملات کو سیاسی ہتھیار بنانے کے بجائے عالمی تعاون اور قوانین کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
اُدھر کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی امریکی پالیسیوں پر محتاط انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا کو توقع ہے کہ امریکا اپنے اتحادی ممالک کی خودمختاری کا احترام کرے گا اور فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔