data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا نے عالمی توانائی منڈی میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں وینزویلا کی تیل صنعت پر عائد بعض اہم پابندیوں میں نرمی کا اعلان کر دیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وینزویلا کے لیے ایک نیا جنرل لائسنس جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت تیل کی معمول کی لین دین، فروخت، ترسیل، ریفائننگ اور برآمدات سے متعلق سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے، خصوصاً امریکی کمپنیوں اور اداروں کے لیے یہ راستہ دوبارہ کھل گیا ہے۔

محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد وینزویلا کی توانائی صنعت میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کو مستحکم رکھنا ہے۔ حالیہ مہینوں میں دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث امریکا کو اپنی توانائی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑی، جس کے نتیجے میں یہ قدم اٹھایا گیا۔

دوسری جانب اس فیصلے پر عالمی ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ چین نے امریکا کے اس اقدام پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن تیل کی فراہمی کے نام پر وینزویلا پر دباؤ ڈال کر اس کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

امریکا میں چین کے سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگ یو نے واضح کیا کہ وینزویلا ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے، جسے اپنے قدرتی وسائل اور معاشی سرگرمیوں پر مکمل اختیار حاصل ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔

چینی ترجمان نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ان بیانات پر بھی ردعمل دیا، جن میں کہا گیا تھا کہ چین وینزویلا سے تیل عالمی منڈی کی قیمتوں پر خریدے گا۔ چین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات دراصل سیاسی مقاصد کے تحت دیے جا رہے ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

بیجنگ نے زور دیا کہ توانائی سے متعلق معاملات کو سیاسی ہتھیار بنانے کے بجائے عالمی تعاون اور قوانین کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔

اُدھر کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی امریکی پالیسیوں پر محتاط انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا کو توقع ہے کہ امریکا اپنے اتحادی ممالک کی خودمختاری کا احترام کرے گا اور فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع

فائل فوٹو 

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔

آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع