بحران کو روکنے کیلئے مصر کے تہران اور واشنگٹن سے رابطے
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں مصری وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ تنازعات کے حل کیلئے امریکہ و ایران کے درمیان تعمیری اور مسلسل رابطوں کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مصر کی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کی سائٹ پر اعلان کیا کہ وزیر خارجہ "بدر عبدالعاطی" نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے لئے علاقائی و عالمی سطح پر سلسلہ وار گہرے سفارتی رابطوں کا آغاز کیا ہے۔ یہ روابط، صدر "عبدالفتاح السیسی" کے جاری کردہ دستور کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دئیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بدر عبدالعاطی نے اپنے ایرانی ہم منصب "سید عباس عراقچی"، امریکی صدر کے نمائندہ برائے امور مشرق وسطیٰ "اسٹیو ویٹکاف"، قطری وزیراعظم و وزیر خارجہ "محمد بن عبدالرحمان آلثانی"، تُرک وزیر خارجہ "حکان فیدان" اور عمانی فارن منسٹر "بدر بن حمد البوسعیدی" سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطے کئے۔ یہ روابط ایسی صورت حال میں انجام دئیے جا رہے ہیں جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور مستقبل میں علاقائی استحکام کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔
مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے ان تازہ ترین رابطوں میں تناؤ کو کم کرنے کی کوششوں کو بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ چیلنج کو صرف سفارت کاری اور بات چیت سے عبور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے علاقائی ہم منصبوں اور امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی پر واضح کیا کہ خطے کو درپیش بحرانوں کا کوئی عسکری حل موجود نہیں۔ اس سلسلے میں کوئی بھی غلطی مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام اور بدامنی کی جانب لے جائے گی۔ بدر عبدالعاطی کا کہنا ہے کہ ان رابطوں کے تسلسل سے تہران و واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی میز پر واپسی اور ایک ایسے پُرامن و متوازن معاہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جو باہمی احترام و مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تشکیل پائے اور علاقائی سلامتی و استحکام کی ضمانت ہو۔ آخر میں قاھرہ نے تنازعات کے حل کے لئے فریقین بالخصوص امریکہ و ایران کے درمیان تعمیری اور مسلسل رابطوں کو جاری رکھنے پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔