Jasarat News:
2026-06-02@22:39:12 GMT

دفتر خارجہ کی وضاحت اور زمینی حقائق

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260131-03-2
دفتر خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ پاکستان ابراہیم معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی عالمی استحکام فورس میں شمولیت اختیار کرے گا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا موقف تبدیل نہیں ہوا یہ ایک غلط فہمی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ امن بورڈ کا ابراہیم معاہدے یا کسی متوازی عمل سے کوئی تعلق ہے۔ امن بورڈ میں شمولیت وزارت خارجہ اور تمام متعلقہ اداروں کا اجتماعی فیصلہ ہے جو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کیا گیا، جب کہ پاکستان کا بنیادی مقصد بورڈ آف پیس میں شامل ہو کر غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم اور برقرار رکھنا، تعمیر نو میں مدد فراہم کرنا اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت پر مبنی منصفانہ اور دیر پا امن کو آگے بڑھانا ہے، 7 دیگر اہم مسلم ممالک، سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر بھی پاکستان کے ساتھ بورڈ آف پیس میں شامل ہوئے ہیں، پاکستان کی شمولیت کو 8 اسلامی ممالک کی اس مشترکہ کوشش کے تسلسل میں دیکھا جانا چاہیے، جس کا مقصد غزہ میں امن قائم کرنا اور فلسطینی مسئلے کا دیرپا حل تلاش کرنا ہے، بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدے سے جوڑنا غلط فہمی ہے جب کہ پاکستان نے اس بورڈ میں نیک نیتی کے تحت شمولیت اختیار کی۔ طاہر اندرابی نے غزہ کے عوام کی مشکلات، اموات اور تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف پیس غزہ اور فلسطینی مسئلہ کے لیے امید کی ایک کرن ہے، یہ بورڈ اقوام متحدہ کا متبادل نہیں ہے بلکہ یہ ایک مخصوص مینڈیٹ کے تحت قائم کیا گیا، جسے سلامتی کونسل کی قرارداد نے اختیار دیا، ہم سمجھتے ہیں کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کے نظام کو کمزور نہیں بلکہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کی یہ وضاحت مثبت جانب ایک پیش رفت ہے یہ پاکستان کے عوام کے دل کی آواز اور ان کے لیے باعث اطمینان ہے کہ حکومت اپنے عوام کے جذبات کا احترام کرتی ہے، اسرائیل کے ناجائز ریاست ہونے اور اسے کسی صورت تسلیم نہ کیے جانے کے معاملہ پر پوری قوم میں ہمیشہ اتفاق اور اتحاد پایا گیا ہے بلکہ اس ضمن میں مصور پاکستان علامہ اقبال اور بانی پاکستان بابائے قوم محمد علی جناح نے اسرائیل کے فلسطین کی سرزمین پر غاصبانہ قبضہ کے ذریعے وجود میں لائے جانے سے قبل ہی اسے سراسر ناجائز ریاست قرار دے کر اسے کسی صورت تسلیم نہ کرنے کا اعلان کر دیا تھا، اسی موقف کو قیام پاکستان سے آج تک ملت اسلامیہ پاکستان نے حرزجان بنا رکھا ہے اور جب کبھی کسی حکمران نے اس مسلمہ قومی موقف سے سرمو انحراف کی کوشش کی ہے یا اس قسم کا عندیہ حکومت کے کارپردازان کی طرف سے دیا گیا ہے تو پوری قوم کی جانب سے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے جس کے بعد ایسے عزائم رکھنے والے حکمرانوں کو اپنے ارادوں سے توبہ کرنا پڑی ہے یہی زمینی حقائق اب بھی موجود ہیں جن کے پیش نظر دفتر خارجہ کے ترجمان کو واضح الفاظ میں اعلان کرنا پڑا ہے کہ پاکستان نہ تو ابراہیم معاہدہ کا حصہ بنے گا اور نہ ہی عالمی استحکام کے نام پر تشکیل دی جانے والی کسی فورس میں شمولیت اختیار کی جائے گی تاہم بہتر ہو گا کہ حکمران غزہ امن بورڈ سے متعلق اپنے فیصلے پر بھی نظر ثانی کریں کیونکہ پاکستانی حکام اگرچہ وضاحتیں کر رہے ہیں کہ اس امن بورڈ کا اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کوئی تعلق نہیں مگر یہ حقیقت تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امن بورڈ میں اسرائیل اور اس کی فوج بھی شامل ہے اور بورڈ کی کسی کارروائی کے دوران یہ دونوں فوجیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں مل کر شریک ہوں گی جب کہ صدر ٹرمپ سے متعلق یہ امر کوئی راز نہیں کہ انہوں نے غزہ میں مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی میں اسرائیل کی کھل کر حمایت اور سرپرستی کی، اس ظلم کے لیے اسرائیل کو ایک سے بڑھ کر ایک جدید اور ہلاکت خیز ہتھیار فراہم کیا اور بھر پور اقتصادی امداد مہیا کی، یہیں بس نہیں اگر دنیا کے کسی ملک نے یہ ظلم و جبر رکوانے کی خاطر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرار داد منظور کروانے کی کوشش کی تو صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکا نے ایسی ہر قرار داد کو ویٹو کر دیا۔ آج جنگیں رکوانے کے دعویدار اور صبح شام امن کے نوبل انعام کے لیے واویلا کرنے والے صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کی قرار دادوں کو ایک دوبار نہیں، پورے آٹھ بار ویٹو کے ہتھیار کے ذریعے منظور ہونے سے روکا۔ ایسے شخص سے آخر یہ امید کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ وہ غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں کی ہمدردی اور خیر خواہی میں کوئی قدم اٹھائے گا۔ صدر ٹرمپ اپنے ماضی کے کردار کے مطابق اگر غزہ کے مسلمانوں کے خلاف یا ان کے مفاد کے برعکس اور اسرائیل کے حق میں کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو ’’امن بورڈ‘‘ معاہدہ کے دستخط کنندگان کی حیثیت سے مسلمان ممالک کیونکر اس کی حکم عدولی کریں گے جب کہ ماضی میں تو ایسا کوئی معاہدہ بھی نہیں تھا تو یہ تمام مسلم ممالک کوئی کارروائی غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں کرنے میں قطعی ناکام رہے تھے اور یہ سب مل کر ’’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘‘ کی تصویر بنے ہوئے تھے گویا علامہ اقبالؒ کے الفاظ میں صورت حال یوں تھی کہ:۔

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

دفتر خارجہ کے ترجمان نے اگرچہ اپنی بریفنگ میں ’’امن بورڈ‘‘ میں پاکستان کی شمولیت کے مقاصد کی ایک خوبصورت تصویر اپنے الفاظ میں یوں کھینچی ہے کہ ’’پاکستان کا بنیادی مقصد ’امن بورڈ‘ میں شامل ہو کر غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم اور برقرار رکھنا، تعمیر نو میں مدد فراہم کرنا اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت پر مبنی منصفانہ اور دیرپا امن کو آگے بڑھانا ہے‘‘۔ مگر سوال یہ ہے کہ جس بورڈ میں اسرائیل، اس کا سرپرست امریکا اور ان کے حواری دیگر مغربی ممالک شامل ہوں گے، کیا ان کی موجودگی میں دفتر خارجہ کے ترجمان کے بیان کردہ مقاصد پورے ہو سکیں گے؟ کیا امریکا اور اسرائیل کے فوجی انہیں ان مقاصد کی تکمیل کا موقع فراہم کریں گے؟ کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک اسرائیل اور امریکا کے پس پردہ مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بننے پر مجبور پائے جائیں۔ کیونکہ اس وقت بھی جنگ بندی معاہدہ کے باوجود اسرائیل اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے اور اس کا ہاتھ روکنا تو دور کی بات ہے، اس کی زبانی مذمت تک کرنے کی توفیق مسلمان ممالک سمیت امن کی پرچارک دنیا میں سے کسی کو نہیں ہو رہی اور پھر ایک انتہائی اہم اور نازک سوال یہ بھی ہے کہ اگر ’امن بورڈ‘ کی کاررروائیوں کا حصہ بننے والے مسلمان ممالک خصوصاً پاکستان کے فوجی جوانوں کا اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی حالت زار دیکھ کر ان کے لیے جذبہ ہمدردی جاگ گیا اور امن بورڈ کے رکن ممالک کے فوجیوں کے مابین باہمی تصادم کی صورت پیدا ہو گئی تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟؟

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دفتر خارجہ کے ترجمان مسلمان ممالک بورڈ ا ف پیس اور فلسطینی کہ پاکستان اسرائیل کے الفاظ میں عوام کے شامل ہو کے لیے اور اس

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی