مظاہرین نے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کو فلسطینیوں سے غداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف پیس اسرائیل کی کمیٹی ہے، شہباز شریف نے ملعون نیتن یاہو کی کمیٹی میں شرکت کر کے فلسطینیوں کی پیٹ میں چھرا گھونپا ہے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں مظاہرہ

اسلام ٹائمز۔ ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف سکردو میں ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی اور مظاہرہ کیا گیا۔ نماز جمعہ کے بعد مرکزی جامع مسجد سے ریلی نکالی گئی جو یادگار شہداء پر پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کر گئی۔ مظاہرے میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی جبکہ ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی قائدین جبکہ تحریک انصاف کے مقامی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کو فلسطینیوں سے غداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف پیس اسرائیل کی کمیٹی ہے، شہباز شریف نے ملعون نیتن یاہو کی کمیٹی میں شرکت کر کے فلسطینیوں کی پیٹ میں چھرا گھونپا ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی کمیٹی

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل