حماس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا، جلد اپنی AK-47 تک واپس کردیں گے؛ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول اوروں کے برعکس میرا یقین ہے کہ حماس جلد ہی اسلحہ ڈالنے جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران دیا لیکن اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ حماس کے پاس ہتھیار چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا یہاں تک کہ وہ اپنی اے کے 47 رائفلیں بھی حوالے کریں گے۔
مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تصدیق کی تاہم انھوں نے بھی وقت نہیں بتایا۔
ادھر اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے انکشاف کیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی پروگرام متعارف کرایا جائے گا جس میں ہتھیار پھینکنے والوں کو رقم، روزگار اور عام معافی دی جائے گی۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق جنگجوؤں کے لیے اسلحہ پھینک کر مالی فوائد لینے اور عام شہری جیسی زندگی گزارنے کا موقع دینے والا یہ منصوبہ کئی ماہ سے زیرِ غور ہے۔
عرب سفارتکاروں نے بھی بتایا کہ غزہ میں جنگ بندی کے ثالث ایک مرحلہ وار منصوبہ چاہتے ہیں جس میں حماس پہلے بھاری ہتھیار اور پھر ہلکے ہتھیار بھی حوالے کرکے غیر مسلح ہوجائے گا۔
تاہم اسرائیل اس طریقہ کار سے متفق نہیں کیونکہ ہلکے ہتھیاروں کے ذریعے بھی حماس نے غزہ میں اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔
ٹرمپ نے اجلاس کے دوران یہ بھی کہا کہ یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش میں حماس نے مدد فراہم کی تاہم اسرائیل نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
اسرائیل نے حال ہی میں غزہ سے آخری یرغمالی رین گیولی کی لاش ایک قبرستان سے خود اپنی انٹیلی جنس اور فوج کے ذریعے برآمد کی تھی۔
رین گیولی کی واپسی کے بعد انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (ICRC) نے اسرائیل کے قبضے سے 15 فلسطینیوں کی لاشیں غزہ کی وزارتِ صحت کے حوالے کیں۔
یاد رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت ہر ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش کے بدلے 15 فلسطینی لاشیں واپس کی جا رہی ہیں۔
گزشتہ برس اکتوبر سے جاری اس عمل کے دوران 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے 1,808 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل سے رہائی ملی ہے۔
مجموعی طور پر 195 یرغمالیوں جن میں 35 ہلاک شدہ تھے اور 3,472 فلسطینی قیدیوں کی واپسی میں سہولت فراہم کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔