وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کی افتتاحی تقریب سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (PAFDA) کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ یہ ادارہ محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک گیم چینجر ہے جو پنجاب اور پورے پاکستان کے لیے معیار اور انصاف کو ہر دہلیز تک پہنچائے گا۔ مریم نواز نے کہا کہ یہ خواب شہباز شریف نے دیکھا تھا اور آج اس کی تعبیر ہم سب کے سامنے ہے۔ اس ادارے میں اب تک 42 مشینیں آ چکی ہیں اور مزید 565 مشینیں آئیں گی، جس سے اگلے مہینے پراسس مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پی اے ایف ڈی اے میں کھاد، خوراک، ادویات اور جانوروں کے چارے کی بھی ٹیسٹنگ ممکن ہو گی، اور 232 سائنسدانوں میں سے 70 فیصد خواتین ہیں۔ مزید برآں، اس ادارے کو امریکہ، سوئٹزرلینڈ اور نیوزی لینڈ کی معاونت حاصل ہے۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب بھر کے 38 اضلاع میں سیٹلائٹ کرائم سین یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ شہادتوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے پولیس کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب کسی بھی واقعے پر پولیس سے پہلے ڈرون جائے گا اور پولیس خواتین کو ان کے گھر پر ہی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ اپریل سے پنجاب کے تمام سکولوں میں اے آئی ایجوکیشن لازمی ہو جائے گی اور پنجاب میں ای ٹینڈرنگ، ای پیکیورمنٹ اور ای بزنس کا آغاز ہو چکا ہے۔ وزیراعلیٰ نے شہباز شریف کو جدید پنجاب اور پاکستان کا معمار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور میرٹ کی روشنی میں آج یہ ادارہ وجود میں آیا ہے اور ہم سب اس کی کامیابی کے لیے کوشاں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔