شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہمارا عزم ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہمارا عزم ہے۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی اور حفظان صحت کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے اتھارٹی کا قیام اہم ہے۔ پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی خطے میں سینٹر آف ایکسیلنس بنے گی۔
وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پہلی پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے قیام میں وزیرِ اعلیٰ کا کردار قابل ستائش ہے، پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا منصوبہ قوم کی بہت بڑی خدمت ہے۔
وزیرِ اعظم نے صنعتوں کے لیے ویلنگ چارجز میں 9 روپے کمی کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ ایکسپورٹرز کے لیے ٹیکس ساڑھے 7 فیصد سے کم کر کے ساڑھے 4 فیصد پر لا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ادارے کے قیام کے لیے وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ خوراک، زرعی مصنوعات اور ادویات کی شفاف نگرانی کے لیے ریگولیٹری ادارے کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جرائم کے خلاف ناقابل تردید ثبوت فراہم کرنے کے لیے فرانزک لیب کا جال بچھایا، فوڈ سیکیورٹی، غذائیت کی فراہمی اور ملاوٹ کے خاتمے میں اتھارٹی کلیدی کردار ادا کرے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ سائنسدانوں اور ماہرین کی کاوشیں لائق تحسین ہیں، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی پنجاب ہی نہیں، بلکہ پورے ملک کی خدمت کے لیے بنایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی شہباز شریف کے لیے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔