کم بجٹ میں لیاری کا روشن اور مثبت چہرہ دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کی ہے: شرجیل انعام میمن
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ لیاری کو ہمیشہ منفی تناظر میں پیش کیا جاتا رہا ہے، اسی تاثر کو بدلنے اور اس علاقے کا مثبت اور اصل چہرہ دکھانے کے لیے کم بجٹ میں ایک فلم بنائی گئی ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو شروع دن سے مختلف مسائل اور چیلنجز کا سامنا رہا ہے اور بدقسمتی سے عالمی سطح پر بھی پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑی ہے، ہماری قیادت کو نشانہ بنایا گیا، اس کے باوجود پاکستان آج ایک مضبوط ایٹمی طاقت کے طور پر کھڑا ہے۔
سینئر وزیر نے زور دیا کہ پاکستان میں سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں جنہیں اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی خوبصورتی، ثقافت اور مثبت کہانیاں دنیا تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شرجیل انعام میمن نے فلم انڈسٹری کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سنیما گھروں کا بحران ہے اور اس خلا کو پُر کرنے کے لیے نجی شعبے کو آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر یقین رکھتی ہے اور ہمیں ایسے معیاری منصوبے لانے چاہئیں کہ عالمی او ٹی ٹی پلیٹ فارمز خود انہیں نشر کرنے میں دلچسپی لیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف اس ٹیلنٹ کو سامنے لانے اور صحیح پلیٹ فارم فراہم کرنے کی ہے۔ حکومت کے کئی مثبت منصوبے موجود ہیں جنہیں مؤثر انداز میں پروموٹ کیا جانا چاہیے تاکہ دنیا پاکستان کا اصل اور روشن چہرہ دیکھ سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن کہ پاکستان
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔