Express News:
2026-06-03@01:15:34 GMT

2 سال میں سونے کی قیمتیں دُگنی سے بھی زیادہ کیسے ہوئیں؟

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

کراچی:

عالمی مارکیٹ میں گزشتہ 2 روز سے وسیع پیمانے پر منافع کے حصول کے رجحان کے باعث سونے کی قدر ایک نئے زون میں داخل ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں جب یہ یقین ہو گیا تھا کہ امریکا شرح سود میں اضافہ نہیں کرے گا تو مارچ 2024 سے سونے کی قیمتوں میں اضافے کا آغاز ہوا، جس کا تسلسل سال 2025 میں بھی جاری رہا۔

امریکی صدر اور فیڈرل ریزرو کے سربراہ کے درمیان تنازع شدت اختیار کرنے، وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر امریکی قبضے، گرین لینڈ اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث ڈالر کی قدر میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا بھر کے سینٹرل بینکوں کی جانب سے گزشتہ 2 سال میں تقریباً 1700 ٹن سونے کی خریداری کی گئی۔

اس دوران چین کی جانب سے بھی ڈالر بانڈز اور ٹریژری بلوں کو فروخت کرکے خالص سونے کے ذخائر میں اضافہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں گزشتہ 2 سال کے دوران فی اونس سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر 3 ہزار 500 ڈالر کا خطیر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح مقامی صرافہ مارکیٹوں میں مارچ 2024 میں فی تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ 27 ہزار 800 روپے تھی، جو 2 روز قبل تک یعنی 28 جنوری 2025 کو بڑھ کر 5 لاکھ 72 ہزار 862 روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی تھی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ بین الاقوامی سطح پر امریکی تنازعات، بڑھتی کشیدگی اور ٹیرف دھمکیوں کے باعث نہ صرف قیمتی دھاتوں کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ کموڈٹیز اور خام تیل کی قیمتوں میں بھی غیر متوقع طور پر نمایاں اضافے کا رجحان غالب ہو گیا ہے۔

مزید پڑھیں

سونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی قیمتوں میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ

ان اسباب کے تناظر میں یہ افواہیں زیر گردش ہیں کہ عالمی مالیاتی نظام پیچیدگیوں کا شکار ہے، لہٰذا 2 سالہ وقفے کے بعد گزشتہ 2 روز سے بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی نوعیت کی تنزلی دیکھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ کی جانب سے پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ سال 2026 کے وسط میں فی اونس سونے کی قیمت 6 ہزار 200 ڈالر کی نئی بلند ترین سطح تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت مزید 255 ڈالر کی بڑی نوعیت کی کمی سے 4 ہزار 895 ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت یکدم 25 ہزار 500 روپے کی کمی سے 5 لاکھ 11 ہزار 862 روپے کی سطح پر آ گئی۔

اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 21 ہزار 862 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 38 ہزار 839 روپے کی سطح پر آ گئی۔

ساتھ ہی عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت بھی 20 ڈالر 63 سینٹس کی کمی سے 85 ڈالر 31 سینٹس پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ چاندی کی قیمت 2 ہزار 063 روپے کی کمی سے 9 ہزار 006 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 1 ہزار 768 روپے کی کمی سے 7 ہزار 721 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: روپے کی کمی سے چاندی کی قیمت بین الاقوامی سونے کی قیمت مارکیٹ میں قیمتوں میں کی سطح پر کے باعث ڈالر کی فی اونس گزشتہ 2 میں فی

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ