2 سال میں سونے کی قیمتیں دُگنی سے بھی زیادہ کیسے ہوئیں؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
کراچی:
عالمی مارکیٹ میں گزشتہ 2 روز سے وسیع پیمانے پر منافع کے حصول کے رجحان کے باعث سونے کی قدر ایک نئے زون میں داخل ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں جب یہ یقین ہو گیا تھا کہ امریکا شرح سود میں اضافہ نہیں کرے گا تو مارچ 2024 سے سونے کی قیمتوں میں اضافے کا آغاز ہوا، جس کا تسلسل سال 2025 میں بھی جاری رہا۔
امریکی صدر اور فیڈرل ریزرو کے سربراہ کے درمیان تنازع شدت اختیار کرنے، وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر امریکی قبضے، گرین لینڈ اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث ڈالر کی قدر میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا بھر کے سینٹرل بینکوں کی جانب سے گزشتہ 2 سال میں تقریباً 1700 ٹن سونے کی خریداری کی گئی۔
اس دوران چین کی جانب سے بھی ڈالر بانڈز اور ٹریژری بلوں کو فروخت کرکے خالص سونے کے ذخائر میں اضافہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں گزشتہ 2 سال کے دوران فی اونس سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر 3 ہزار 500 ڈالر کا خطیر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح مقامی صرافہ مارکیٹوں میں مارچ 2024 میں فی تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ 27 ہزار 800 روپے تھی، جو 2 روز قبل تک یعنی 28 جنوری 2025 کو بڑھ کر 5 لاکھ 72 ہزار 862 روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی تھی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ بین الاقوامی سطح پر امریکی تنازعات، بڑھتی کشیدگی اور ٹیرف دھمکیوں کے باعث نہ صرف قیمتی دھاتوں کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ کموڈٹیز اور خام تیل کی قیمتوں میں بھی غیر متوقع طور پر نمایاں اضافے کا رجحان غالب ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیںسونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی قیمتوں میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ
ان اسباب کے تناظر میں یہ افواہیں زیر گردش ہیں کہ عالمی مالیاتی نظام پیچیدگیوں کا شکار ہے، لہٰذا 2 سالہ وقفے کے بعد گزشتہ 2 روز سے بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی نوعیت کی تنزلی دیکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ کی جانب سے پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ سال 2026 کے وسط میں فی اونس سونے کی قیمت 6 ہزار 200 ڈالر کی نئی بلند ترین سطح تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت مزید 255 ڈالر کی بڑی نوعیت کی کمی سے 4 ہزار 895 ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت یکدم 25 ہزار 500 روپے کی کمی سے 5 لاکھ 11 ہزار 862 روپے کی سطح پر آ گئی۔
اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 21 ہزار 862 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 38 ہزار 839 روپے کی سطح پر آ گئی۔
ساتھ ہی عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت بھی 20 ڈالر 63 سینٹس کی کمی سے 85 ڈالر 31 سینٹس پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ چاندی کی قیمت 2 ہزار 063 روپے کی کمی سے 9 ہزار 006 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 1 ہزار 768 روپے کی کمی سے 7 ہزار 721 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روپے کی کمی سے چاندی کی قیمت بین الاقوامی سونے کی قیمت مارکیٹ میں قیمتوں میں کی سطح پر کے باعث ڈالر کی فی اونس گزشتہ 2 میں فی
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔