Nawaiwaqt:
2026-07-24@09:38:09 GMT

سونے کی قیمت میں اچانک ایک بار پھر بڑی کمی

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

سونے کی قیمت میں اچانک ایک بار پھر بڑی کمی

مقامی اور عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث سونا خریدنے کے خواہشمند افراد کو وقتی طور پر کچھ ریلیف ملا ہے، لیکن سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق ملک میں آج بھی فی تولہ سونا اچانک 25 ہزار 500 روپے سستا ہو گیا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 5 لاکھ 11 ہزار 862 روپے فی تولہ کی سطح پر آ گئی ہے۔ اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت میں بھی واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ دس گرام سونا 21 ہزار 862 روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 38 ہزار 839 روپے فی تولہ میں فروخت ہونے لگا ہے۔ جیولرز کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی کا اثر براہ راست مقامی مارکیٹ پر پڑا ہے۔  عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 255 ڈالر سستا ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 4 ہزار 895 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر معاشی حالات، ڈالر کی قدر اور سرمایہ کاروں کے رجحانات سونے کی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس کی جھلک اب مقامی منڈی میں بھی نظر آ رہی ہے۔ سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 2 ہزار 63 روپے کم ہو گئی ہے، جس کے بعد فی تولہ چاندی 9 ہزار 6 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔ بازار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس کمی کے بعد سونے اور چاندی کی خرید و فروخت میں کچھ بہتری آ سکتی ہے، تاہم حتمی رجحان کا انحصار آنے والے دنوں میں عالمی مارکیٹ کی صورتحال پر ہوگا۔ خریداروں کی جانب سے بھی محتاط رویہ اختیار کیا جا رہا ہے اور بہت سے لوگ قیمتوں میں مزید کمی کے انتظار میں دکھائی دے رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سونے کی قیمت میں فی تولہ گئی ہے کے بعد

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

اسلام آباد:

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔

سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔

کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔

سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • سوناہزاروں روپے سستا، ایک دن کی بڑی کمی نے مارکیٹ ہلا دی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی