ایمازون کی اوپن اے آئی میں 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ایمازون مبینہ طور پر اوپن اے آئی میں 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنارہی ہے، جس کے تحت کمپنی کی مجموعی ویلیوایشن 500 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اوپن اے آئی اس وقت مجموعی طور پر 100 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کی مالیت تقریباً 830 ارب ڈالر تک جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمازون کا بھارت میں 2030 تک 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان
اس سلسلے میں ایمازوں کی جانب سے مذاکرات کی قیادت کمپنی کے سی ای او اینڈی جیسی کررہے ہیں، جو اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین سے براہ راست مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اوپن اے آئی اضافی سرمایہ حاصل کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ کے خودمختار ویلتھ فنڈز سے بھی بات چیت کررہی ہے، جبکہ دیگر ممکنہ شراکت داروں میں اینویڈیا، مائیکروسافٹ اور سافٹ بینک شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ سال کی پہلی سہ ماہی کے اختتام تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمازون کا اپنے 30 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ، تاریخی ڈاؤن سائزنگ کی وجہ کیا بنی؟
یہ ممکنہ شراکت اس لیے بھی خاصی توجہ کا مرکز بن رہی ہے کیونکہ ایمازون کے اوپن اے آئی کے حریف ادارے اینتھروپک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، ایمازون کی اے ڈبلیو ایس اینتھروپک کی بنیادی کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والی کمپنی ہے اور ایمازون اس ادارے میں ایکویٹی بھی رکھتی ہے۔
مزید یہ کہ ایمازون نے انڈیانا میں 11 ارب ڈالر لاگت سے ایک بڑا ڈیٹا سینٹر کیمپس بھی قائم کیا ہے، جو خصوصی طور پر اینتھروپک کے ماڈلز کو چلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اگر اوپن اے آئی کے ساتھ یہ نیا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو مصنوعی ذہانت کے عالمی منظرنامے میں ایمازون کا کردار مزید مضبوط ہوسکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اوپن اے آئی ایمازون اینتھروپک سرمایہ کاری مائیکروسافٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی ایمازون سرمایہ کاری مائیکروسافٹ سرمایہ کاری اوپن اے آئی ارب ڈالر کی
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔