حکومت نے پی آئی اے کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری ترجیح قرار دے دی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
اسلام آ باد:
وفاقی سیکریٹری نجکاری عثمان باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری ترجیح ہے۔
سینیٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نجکاری کا اجلاس ہوا جس میں دوران بریفنگ سیکریٹری وزارت نجکاری نے کہا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور ترکیہ نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر نجکاری کے بجائے اوپن بڈنگ کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو ملک یا کمپنی زیادہ قیمت دے گی، ایئرپورٹ کا انتظام اس کے حوالے ہوگا، اسلام آباد کے بعد کراچی اور لاہور ایئرپورٹ کو بھی آوٹ سورس کیا جائے گا۔
سیکریٹری نجکاری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کو آوٹ سورس کرنے کے لیے مالی مشیر کا تقرر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے ڈی بی ائیر پورٹس کی آوٹ سورسنگ میں پاکستان کی مدد میں دلچسپی رکھتا ہے، تینوں ایئرپورٹس کی آوٹ سورسنگ کے بعد موجودہ عملہ دیگر چھوٹے ایئر پورٹس پر لگانے کا منصوبہ ہے۔
عثمان باجوہ نے بتایا کہ2024 میں پی آئی اے کی نجکاری کامیاب نہیں ہو سکی تھی، اس موقع پر سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ عارف حبیب گروپ کے خلاف ایک درخواست سپریم کورٹ میں ہے کیا اس کا فیصلہ پو گیا، جس پر سیکریٹری نے بتایا کہ نجکاری کمیشن نے اداروں سے جانچ پڑتال کروائی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ کمپنی کے خلاف کوئی کارروائی یا بلیک لسٹ والی چیز ہمارے سامنے نہیں آئی، عدالت کے فیصلے کا بھی کوئی مواد سامنے نہیں آیا۔
سینیٹر پلوشہ نے سوال کیا کہ کیا عارف حبیب گروپ کے خلاف مسابقتی کمیشن کا عائشہ اسٹیل والا فیصلہ بھی نہیں ملا، سیکریٹری نے بتایا کہ نجکاری کمیشن کو کسی ادارے سے ایسا کوئی فیصلہ موصول نہیں ہوا۔
سینیٹر بلال احمد کا کہنا تھا کہ بولی دہندگان کو بغیر ایوی ایشن تجربہ کس طرح بولی میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی، سینیٹر افنان اللہ خان نے جواب دیا کہ نجکاری کے لیےایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی۔
سینیٹر بلال احمد نے کہا کہ اگر ریڑھی پر رکھ کر چیزیں بیچنی ہیں تو پھر ٹھیک ہے، اس سے پہلے نجکاری سے بہت سارے لوگ اس لیے ڈس کوالیفائی کیے گئے کہ وہ تکنیکی معیار پورا نہیں کرتے تھے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ ٹینڈر کا معاملہ نہیں نجکاری ہے، نجکاری کا ٹینڈر کے طریقہ کار سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا، نجکاری طریقہ کار کی حکومت اور عالمی اداروں نے بھی منظوری دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نجکاری کے لیے کنسورشیم کے حصہ لینے کی شروع سے اجازت تھی، اسلام آباد ائیر پورٹ کی یا نجکاری کر دیں یا سہولیات بہتر کریں۔
سیکریٹری نجکاری نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ائیر پورٹس کی نجکاری میں دلچسپی بڑھ گئی ہے، اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں داخلے میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے، اس لیے نجکاری کی جائے گی۔
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ کیا اب حکومت خود کوئی کام نہیں کر سکتی وہ سارے باہر والے کریں گے، چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ کراچی ائیر پورٹ پر چوہے گھومتے ہیں، جس پر پلوشہ خان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بھی ہاتھی نہیں چوہے گھومتے رہتے ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ حکومت ان ائیر پورٹس کی نجکاری کرے گی۔
سیکریٹری نجکاری نے بتایا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کی کمپنیاں ائیر پورٹس کو چلانے میں دلچسپی رکھتی ہیں، ایشیائی ترقیاتی بینک بھی ائیر پورٹس کی آوٹ سورسنگ میں پاکستان کی مدد کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑے ائیر پورٹس کی آوٹ سورسنگ سے سول ایوی ایشن اتھارٹی چھوٹے ائیر پورٹس کو زیادہ بہتر کر سکے گی۔
سینیٹر بلال احمد نے کہا کہ حکومت ایک بار میں ہی تمام ائیر پورٹس کی آوٹ سورسنگ کر دے، اس پر سول ایوی ایشن اتھارٹی بہتر رائے دے سکتی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ائیر پورٹس کی آوٹ سورسنگ اسلام آباد ایئرپورٹ سیکریٹری نجکاری انہوں نے کہا کہ خان نے کہا کہ نے بتایا کہ میں دلچسپی نجکاری کا کی نجکاری کہ نجکاری نجکاری کے کے بعد
پڑھیں:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔
کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔
کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔
کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔
مزید :