سیکریٹری نجکاری کمیشن نے واضح کیا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں کسی بڈر کو کوئی رعایت نہیں دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ عارف حبیب گروپ کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک درخواست زیر التوا ہے، تاہم یہ درخواست کسی کو نااہل قرار دینے کی بنیاد نہیں بنتی، پی آئی اے کے تمام بڈرز کی فنانشل مینجمنٹ یونٹ کے ذریعے اسکروٹنی کی گئی، جبکہ ورلڈ بینک، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی رپورٹس حاصل کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے: ڈھانچہ جاتی اصلاحات، نجکاری اور ڈیجیٹائزیشن سے معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے، اسحاق ڈار

سینیٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری نجکاری کمیشن عثمان باجوہ نے کمیٹی کو نجکاری پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی، سینیٹر عمر فاروق نے پی آئی اے کی نجکاری کے طریقہ کار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں شفافیت پر سوالات ہیں۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے جواب دیا کہ پی آئی اے ہر سال تقریباً 100 ارب روپے کا نقصان کر رہی تھی، اب جب نجکاری ہو رہی ہے تو اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ حکومت کا مجموعی بجٹ 17 ہزار ارب روپے ہے، اگر نجکاری سے 900 ارب روپے کی بچت ہو جائے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

سیکریٹری نجکاری کمیشن کے مطابق اگر ڈسکوز کی نجکاری نہ کی گئی تو ہر سال 300 سے 400 ارب روپے کا اضافی بوجھ قومی خزانے پر پڑے گا، جبکہ مختلف سرکاری ادارے مجموعی طور پر سالانہ 900 ارب روپے کا نقصان کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: آئی ایم ایف نے پی آئی اے کی نجکاری کو اقتصادی اصلاحات میں سنگ میل قرار دے دیا

بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال 24 سرکاری اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے، جن میں 3 بڑے ہوائی اڈے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 5 ڈسکوز اور 2 جینکوز کی نجکاری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

سیکریٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ وزیر اعظم نے نجکاری کمیشن کی استعداد کار بڑھانے اور نجکاری پروگرام کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ مارکیٹ سے بہترین کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ اس وقت نجکاری کمیشن کے پاس 6 کنسلٹنٹس موجود ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی آئی اے سینیٹ نجکاری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ا ئی اے سینیٹ نجکاری سیکریٹری نجکاری کمیشن پی آئی اے کی نجکاری ارب روپے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان

الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔

الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش