تنازعات کے پر امن کیلئے تیار،سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے،پاکستان WhatsAppFacebookTwitter 0 31 January, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی ایس )معاہدوں کے تقدس اور عالمی امن کے تحفظ پر پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اہم نشست منتقد کی جس میں سلامتی کونسل کے اراکین کے علاوہ دنیا کے تمام خطوں سے تعلق رکھنے والے رکن ممالک نے شرکت کی۔ پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت آریا فارمولا کے تحت اہم اجلاس کا موضوع بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے معاہدات کے تقدس کو برقرار رکھنا تھا۔

اجلاس میں ممتاز ماہرین پر مشتمل پینل نے بریفنگ دی پینل میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے قانونی امور کے ٹریٹیز سیکشن کے سربراہ ڈیوڈ نینوپولوس شامل تھے ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا کے صدر اور پاکستان کے سابق وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی پینل کاحصہ تھے۔پینل میں انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ کے صدر اور سابق اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق پرنس زید رعد الحسین شامل تھے۔بوسٹن یونیورسٹی کے پارڈی اسکول آف گلوبل اسٹڈیز کے پروفیسر و سابق ڈین پروفیسر عادل نجم پینل کاحصہ تھے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ عاصم افتخار احمد نے اگست 2025 میں عدالتِ ثالثی کے فیصلے کا حوالہ دیاان فیصلوں نے اس امر کی توثیق کی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔اس کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار لازمی نوعیت کے ہیں، یسے معاہدات کو کمزور کرنا دنیا بھر میں مشترکہ وسائل، سرحدی نظم و نسق اور اعتماد سازی کے معاہدوں کے لیے خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمجھے اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت نہ دینا شرمناک ہے، وزیر اعلی کے پی مجھے اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت نہ دینا شرمناک ہے، وزیر اعلی کے پی عراق میں لاکھوں بھارتیوں کا اسرائیل کیلئے جاسوسی کرنے کا انکشاف پی آئی اے ریٹائرڈ ملازمین کی مشکلات بڑھ گئیں، پینشن کے لیے اب نیا اکاؤنٹ کا مطالبہ عراق میں لاکھوں بھارتیوں کا اسرائیل کیلئے جاسوسی کرنے کا انکشاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کا فیصلہ پیر کو متوقع، پاکستان ٹیم کی کٹ کی رونمائی ملتوی بلوچستان: فورسز کی بروقت کارروائیاں، بی ایل اے کے حملے ناکام، کئی دہشت گرد جہنم واصل TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ