جنت مرزا کی بہن کا ’’سادگی‘‘ سے صرف 30 لاکھ روپے میں شادی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
پاکستان کی معروف ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر جنت مرزا کی بہن علشبہ انجم نے اپنی آئندہ شادی کے حوالے سے سادگی اختیار کرنے کے ارادے کا اظہار کردیا ہے۔
انٹرنیٹ سیلیبریٹیز کی پرتعیش شادیوں کے رجحان کے برعکس علشبہ کا کہنا ہے کہ وہ محدود اخراجات کے ساتھ نکاح اور ولیمے پر مشتمل تقریب منعقد کریں گی۔
حالیہ گفتگو کے دوران جب ان سے شادی کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ تقریباً 20 سے 30 لاکھ روپے کے بجٹ میں شادی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور ان کی تقریب صرف دو اہم مراحل، یعنی نکاح اور ولیمے تک محدود ہوگی۔ ان کے مطابق غیر ضروری دکھاوے کے بجائے سادگی کو ترجیح دی جائے گی۔
اسی موقع پر علشبہ انجم نے اپنے ملبوسات کی قیمتوں کی تفصیل بھی شیئر کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی جینز جاپان سے خریدی گئی ہے جس کی قیمت 20 ہزار روپے ہے، جبکہ شرٹ 10 ہزار روپے میں لی گئی اور جوتوں کی قیمت تقریباً 25 ہزار روپے تک ہے۔
View this post on Instagramعلشبہ کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آتے ہی تیزی سے وائرل ہو گئی اور صارفین کی بڑی تعداد نے اس پر ردعمل دیا۔ متعدد افراد نے ان کے سادگی کے فیصلے کو تو سراہا لیکن ساتھ ہی صارفین کی اکثریت نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ 20 سے 30 لاکھ روپے کے بجٹ کو واقعی سادہ شادی کہا جاسکتا ہے؟
علشبہ انجم سوشل میڈیا پر غیر معمولی مقبولیت رکھتی ہیں۔ ان کے انسٹاگرام پر 30 لاکھ سے زائد جبکہ ٹک ٹاک پر ایک کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ فالوورز موجود ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔