وادی تیراہ کی صورتحال پر باڑہ سیاسی اتحاد کا جرگہ، خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
باڑہ سیاسی اتحاد کا تیراہ معاملے پر ہونے والا اہم جرگہ اختتام پذیر ہوگیا جس میں عمائدین اور مشران نے صوبائی حکومت کو نااہلی اور بدانتظامی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایکسپریسنیوز کے مطابق باڑہ میں منعقد ہونے والا جرگہ تیراہ کے نمائندہ قبائلی عمائدین اور مشران کے مطالبے پر طلب کیا گیا، جس میں صوبائی حکومت کی بدانتظامی کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات پر مُستقبِل کا لائحہ عمل طے کیا کیا۔
جرگہ نے تیراہ میں بدانتظامی کے ضمن میں صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور متاثرین میں چار ارب کی تقسیم میں کرپشن اور سیاسی مداخلت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
جرگہ ممبران نے قیام امن کے لئے سیکییورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ جرگے کا ایجنڈا چیئرمین باڑہ سیاسی اتحاد حاجی شیریں آفریدی نے پیش کیا۔
باڑہ سیاسی اتحاد نے تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی، ہمدردی اور بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور صوبائی حکومت سے نقل مکانی کرنے والوں کی مکمل دیکھ بھال و انتظامات کا مطالبہ کیا۔
سابق چیئرمین حاجی شیریں آفریدی نے کہا کہ ہم نے خوارج کے ساتھ دو مرتبہ جرگہ کیا، اس کے بعد ہم نے جرگے کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور تیراہ کے مشران کو سونپ دی، مگر دونوں جرگے ناکام رہے۔
باڑہ سیاسی اتحاد کے دیگر رہنماؤں نے کہا کہ متاثرینِ تیراہ کے مسائل کسی ایک علاقے یا قبیلے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی قومی مسئلہ ہے، جس کا حل مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
مزید پڑھیںتیراہ میں آپریشن کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا، سیکیورٹی ذرائع
لوگ ازخود نہیں جارہے، آفریدی قوم کے بڑوں کو مجبور کیاگیا کہ وادی تیراہ خالی کردیں، سہیل آفریدی
وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا صرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں ہورہی ہیں، وزیر مملکت داخلہ
باڑہ سیاسی اتحاد نے متفقہ اعلامیہ پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وادی تیراہ میں فوری طور پر مکمل امن بحال کیا جائے اور مستقبل میں پائیدار امن کی واضح ضمانت دی جائے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ تیراہ میں خوارج کی جانب سے فائرنگ، شیلنگ، گھروں پر مارٹر حملے اور کواڈ کاپٹر گرانے جیسے اقدامات کو فوری طور پر بند کیا جائے کیونکہ یہ عمل عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔
باڑہ سیاسی اتحاد نے اعلامیے میں کہا کہ تیراہ متاثرین کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے اور متاثرین کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے اور معاہدے تحریری و عملی طور پر تسلیم اور نافذ کیے جائیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ متاثرینِ تیراہ کی رجسٹریشن کے عمل میں سیاسی مداخلت اقربا پروری،انتظامی نااہلی اور کرپشن کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، تیراہ میں گھر یا جائیداد رکھنے والے تمام رہائشیوں کو آئی ڈی پیز اسٹیٹس دے کر مکمل رجسٹریشن کی جائےسب کو امدادی پیکیج میں شامل کیا جائے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اپرباڑہ اور باڑہ پلین ایریا میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے، جسے ہنگامی بنیادوں پر کنٹرول کیا جائے۔ جرگے نے اعلان کیا کہ قیامِ امن کے لیے آج سے باڑہ میں امن تحریک کا آغاز ہوگا تاکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
باڑہ میں خوارج کی جانب سے اغوا برائے تاوان، دھمکی آمیز کالز اور عام شہریوں میں خوف و ہراس کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے اور عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے ، باڑہ سیاسی اتحاد
سیاسی اتحاد باڑہ اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ متاثرینِ تیراہ کے ساتھ ہر فورم پر کھڑا رہے گا اور ان کے حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اعلامیے میں کہا صوبائی حکومت وادی تیراہ تیراہ میں کیا جائے تیراہ کے کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔