حکومت نوجوانوں کو ڈیجیٹل اسکل دینے کے لیے نیا پروگرام شروع کر رہی ہے، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
اقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتیں سکھانے کے لیے ایک نیا پروگرام شروع کر رہی ہے، تاکہ وہ سائبر سیکیورٹی اور دیگر ڈیجیٹل شعبوں میں اپنے کیریئر کو مضبوط بنا سکیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور تعلیم، روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے جڑ رہے ہیں۔ احسن اقبال نے نوجوانوں پر زور دیا کہ اگر ملک اپنی نوجوان آبادی کو اس جانب راغب کرے تو پاکستان مستقبل میں مضبوط اور خود کفیل بن سکتا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں ملک نے کئی چیلنجز دیکھے، جیسے 2013 میں بجلی کی شدید کمی، اور بتایا کہ اس کے باوجود حکومت نے ملکی معیشت اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی کوششیں کیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ 2017 میں نیشنل سینٹر آف ٹیکنالوجی قائم کیا گیا، جس نے نوجوانوں کے لیے مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت اس پروگرام میں پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون کو بھی شامل کرے گی۔ ویب ٹو اور فن ٹیک کے ذریعے ڈیجیٹل کام کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ نوجوان تیزی سے سیکھیں اور عالمی معیار کے قابل بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر قومیں ترقی کرتی ہیں، اور نوجوانوں کو پاکستان کا مثبت برینڈ ایمبیسیڈر بننے کا موقع ملے گا۔
احسن اقبال نے واضح کیا کہ دنیا کے ہر ملک کو چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن غریب گھر کا بچہ بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی تقدیر بدل سکتا ہے۔ ان کے مطابق اصلاحات، تعلیم اور جدید مہارتیں قوم کو آگے لے جانے کی کنجی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: احسن اقبال نے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔