Jasarat News:
2026-07-24@00:54:10 GMT

سری نگر:دہرادون میں کشمیریوں پرحملے کےخلاف احتجاج

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سری نگر: بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے دہرادون میں دو کشمیری شال فروشوں پر جنونی ہندوﺅں کے ہونے والے حملے کے بعد جموں و کشمیر میں اپوزیشن پارٹی پی ڈی پی اور جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

اس واقعے کے خلاف پی ڈی پی کارکنوں نے ہفتہ کے روز احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔پی ڈی پی کارکنوں نے سری نگر میں پارٹی دفتر کے سامنے وادی کے باہر احتجاج کیا۔

 پی ڈی پی لیڈر سارہ نعیمہ نے کہا کہ ہمارے کشمیری بیٹے کو اتراکھنڈ میں بے رحمی سے پیٹا گیا اور اس پر حملہ کیا گیا۔ اس کی واحد غلطی یہ تھی کہ وہ کشمیری اور مسلمان ہے۔

پارٹی سربراہ محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا، ”جب اتراکھنڈ میں ایک نوجوان کشمیری شال فروش کو تقریباً پیٹ پیٹ کر مار دیا جاتا ہے تو اسے بچانے کے لیے کوئی آگے نہیں آتا، لیکن جب پی ڈی پی ایسے مظالم کے خلاف پرامن احتجاج کرنے کی کوشش کرتی ہے تو پورے پولیس نظام کو مارچ کچلنے کے لیے لگا دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو اپنے ہی مرکز کے زیرِ انتظام خطے میں قید کر دیا گیا ہے اور جب وہ ایمانداری سے روزی کمانے کے لیے باہر نکلتے ہیں تو انہیں پیٹا جاتا ہے۔

جب زندگی جینے کو بھی جرم مانا جاتا ہے تو کشمیری کہاں جائیں؟ کیا انہیں نئے بھارت میں رہنے کی بھی اجازت ہے؟

ادھر جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے اس معاملے میں مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

 مرکزی وزیرِ داخلہ کو لکھے گئے خط میں ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر خوہامی نے کہا کہ یہ واقعہ دہرادون کے وکاس نگر علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک کم عمر لڑکا اپنے خاندان کے ساتھ شدید سردی کے مہینوں میں روزی کمانے کے لیے شالیں فروخت کر رہا تھا۔

 ایسوسی ایشن کے مطابق پہلے نوجوان سے اس کی شناخت اور آبائی مقام کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی، جب یہ بات سامنے آئی کہ خاندان مسلمان ہے اور کشمیر سے تعلق رکھتا ہے تو مبینہ طور پر صورتحال شدید تشدد میں بدل گئی۔

 نوجوان کو لوہے کی راڈ سے بے دردی سے پیٹا گیا، جس کے نتیجے میں اس کے بائیں ہاتھ میں فریکچر ہوگیا اور سر پر شدید چوٹیں آئیں، جن کے لیے 13 ٹانکے لگانے پڑے۔

ایسوسی ایشن نے اس حملے کو محض ایک مجرمانہ فعل نہیں بلکہ شناخت کی بنیاد پر تشدد کی سنگین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بھارت کی آئینی اقدار، قومی یکجہتی اور باہمی ہم آہنگی پر سیدھا حملہ ہے۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن پی ڈی پی جاتا ہے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع