کھلاڑیوں کے حقوق پر تنازع، آئی سی سی اور ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن میں اختلافات
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور کرکٹرز کی عالمی نمائندہ تنظیم ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے باعث عالمی کرکٹ انتظامیہ کو ایک نئے بحران کا سامنا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کرکٹ کی معروف ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق دونوں اداروں کے درمیان تنازع کھلاڑیوں کی شرکت کی شرائط اور ان کے نام، تصویر اور شناخت سے متعلق حقوق کے حوالے سے پیدا ہوا ہے، جسے نان امیج لائیکنیس یعنی این آئی ایل حقوق کہا جاتا ہے۔
ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے ورلڈ کپ میں شریک کھلاڑیوں کو بھیجی جانے والی شرائط 2024 میں طے پانے والے معاہدے سے مختلف ہیں۔
تنظیم کے مطابق نیا ڈرافٹ معاہدہ کھلاڑیوں کے لیے پہلے سے زیادہ سخت اور استحصالی ہے، جس پر نہ تو اتفاق رائے ہوا ہے اور نہ ہی اسے کھلاڑیوں کی نمائندہ تنظیم نے تسلیم کیا ہے۔ ڈبلیو سی اے کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں کھلاڑیوں کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتی ہیں اور انہیں تجارتی طور پر نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
کھلاڑیوں کی تنظیم نے ان تحفظات کے حوالے سے آئی سی سی کو باضابطہ خط بھی ارسال کیا ہے، تاہم کرک انفو کے مطابق آئی سی سی نے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کیا۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ 2024 کا معاہدہ صرف 8 نیشنل گورننگ بورڈز پر لاگو ہوتا تھا جب کہ ورلڈ کپ میں شریک دیگر ممالک اس معاہدے کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ آئی سی سی کے مطابق اس بنیاد پر نئے شرائط نامے کو قانونی اور قابلِ عمل سمجھا جا رہا ہے۔
جن 8 بورڈز پر 2024 کے معاہدے کا اطلاق ہوتا ہے، ان میں آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقا، ویسٹ انڈیز، آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور اسکاٹ لینڈ شامل ہیں۔
اس کے برعکس ٹورنامنٹ میں شریک دیگر 12 ممالک، جن میں پاکستان، بھارت، نیپال، عمان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتے، اسی وجہ سے ان کے کھلاڑی اس تنظیم سے منسلک نہیں ہیں۔
کرکٹ حلقوں کے مطابق اس تنازع کے اثرات ورلڈ کپ کی تیاریوں پر بھی پڑ سکتے ہیں، کیونکہ کھلاڑیوں کے حقوق اور تجارتی معاملات کسی بھی بڑے ایونٹ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مسئلہ بروقت حل نہ ہوا تو اس سے کھلاڑیوں اور منتظمین کے درمیان اعتماد کی فضا متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب آئی سی سی کا مؤقف ہے کہ ورلڈ کپ جیسے عالمی ایونٹ کے لیے یکساں اور واضح شرائط ناگزیر ہیں تاکہ انتظامی معاملات میں پیچیدگی پیدا نہ ہو، تاہم ڈبلیو سی اے اس بات پر زور دے رہی ہے کہ کھلاڑیوں کی رضامندی اور حقوق کو نظرانداز کر کے کسی بھی معاہدے کو نافذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ یہ تنازع آنے والے دنوں میں عالمی کرکٹ سیاست میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کھلاڑیوں کی کھلاڑیوں کے کے مطابق ورلڈ کپ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔