وزارتِ خارجہ نے کہا کہ دوسری بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ سے موجودہ تعاون کو مزید آگے بڑھانے اور اس شراکت داری کو وسعت اور گہرائی دینے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز بھارت منڈپم میں دوسری بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ میں شرکت کے لئے آئے عرب ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے بھارت اور عرب دنیا کے درمیان عوامی سطح پر موجود گہرے اور تاریخی روابط کو اجاگر کیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے عرب ممالک کے وزرائے خارجہ، لیگ آف عرب اسٹیٹس (ایل اے ایس) کے سکریٹری جنرل اور عرب ممالک کے سربراہان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی۔ عرب لیگ کے سربراہ دوسری بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ میں شرکت کے لئے بھارت پہنچے ہیں۔

دوسری بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ (IAFMM) کے دوران وزیراعظم نے تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، صحت اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے فلسطینی عوام کے لئے بھارت کی مسلسل حمایت کو دہرایا اور غزہ امن منصوبے سمیت جاری امن کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم نے بھارت اور عرب ممالک کے درمیان عوامی سطح پر موجود مضبوط اور تاریخی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے آئندہ برسوں میں بھارت–عرب شراکت داری کے لئے اپنے وژن کا اظہار کیا اور باہمی مفاد کے تمام اہم شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے بھارت کے عزم کی پھر سے توثیق کی۔

نریندر مودی نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے لئے بھارت کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا اور غزہ پیس پلان سمیت جاری امن اقدامات کی حمایت کی۔ اس دوران انہوں نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں عرب لیگ کے اہم کردار کی بھی ستائش کی۔ اس اعلیٰ سطحی میٹنگ کی مشترکہ صدارت بھارت اور متحدہ عرب امارات کریں گے، جس میں عرب لیگ کے تمام 22 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور سینئر نمائندے، عرب لیگ کے سربراہ کے ساتھ شرکت کریں گے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اجلاس تقریباً ایک دہائی بعد منعقد ہو رہا ہے۔ اس سے قبل بھارت–عرب وزرائے خارجہ کی میٹنگ 2016ء میں بحرین میں ہوئی تھی۔ وزارتِ خارجہ نے اپنی سرکاری ریلیز میں کہا "دوسری بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ سے موجودہ تعاون کو مزید آگے بڑھانے اور اس شراکت داری کو وسعت اور گہرائی دینے کی توقع ہے"۔ وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ بھارت اور لیگ آف عرب اسٹیٹس کے درمیان تعاون کے لئے سب سے بڑا ادارہ جاتی پلیٹ فارم ہے۔ مارچ 2002ء میں بھارت اور عرب لیگ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے گئے تھے، جس کے بعد باضابطہ مکالمے کا فریم ورک قائم ہوا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دوسری بھارت عرب وزرائے خارجہ میٹنگ کے لئے بھارت عرب ممالک کے عرب لیگ کے کے درمیان بھارت اور تعاون کو اور عرب کو مزید

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی