عرب وزرائے خارجہ سے ملاقات کے دوران نریندر مودی نے فلسطین کیلئے بھارت کی حمایت کو دہرایا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ دوسری بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ سے موجودہ تعاون کو مزید آگے بڑھانے اور اس شراکت داری کو وسعت اور گہرائی دینے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز بھارت منڈپم میں دوسری بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ میں شرکت کے لئے آئے عرب ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے بھارت اور عرب دنیا کے درمیان عوامی سطح پر موجود گہرے اور تاریخی روابط کو اجاگر کیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے عرب ممالک کے وزرائے خارجہ، لیگ آف عرب اسٹیٹس (ایل اے ایس) کے سکریٹری جنرل اور عرب ممالک کے سربراہان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی۔ عرب لیگ کے سربراہ دوسری بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ میں شرکت کے لئے بھارت پہنچے ہیں۔
دوسری بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ (IAFMM) کے دوران وزیراعظم نے تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، صحت اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے فلسطینی عوام کے لئے بھارت کی مسلسل حمایت کو دہرایا اور غزہ امن منصوبے سمیت جاری امن کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم نے بھارت اور عرب ممالک کے درمیان عوامی سطح پر موجود مضبوط اور تاریخی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے آئندہ برسوں میں بھارت–عرب شراکت داری کے لئے اپنے وژن کا اظہار کیا اور باہمی مفاد کے تمام اہم شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے بھارت کے عزم کی پھر سے توثیق کی۔
نریندر مودی نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے لئے بھارت کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا اور غزہ پیس پلان سمیت جاری امن اقدامات کی حمایت کی۔ اس دوران انہوں نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں عرب لیگ کے اہم کردار کی بھی ستائش کی۔ اس اعلیٰ سطحی میٹنگ کی مشترکہ صدارت بھارت اور متحدہ عرب امارات کریں گے، جس میں عرب لیگ کے تمام 22 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور سینئر نمائندے، عرب لیگ کے سربراہ کے ساتھ شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اجلاس تقریباً ایک دہائی بعد منعقد ہو رہا ہے۔ اس سے قبل بھارت–عرب وزرائے خارجہ کی میٹنگ 2016ء میں بحرین میں ہوئی تھی۔ وزارتِ خارجہ نے اپنی سرکاری ریلیز میں کہا "دوسری بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ سے موجودہ تعاون کو مزید آگے بڑھانے اور اس شراکت داری کو وسعت اور گہرائی دینے کی توقع ہے"۔ وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ بھارت–عرب وزرائے خارجہ میٹنگ بھارت اور لیگ آف عرب اسٹیٹس کے درمیان تعاون کے لئے سب سے بڑا ادارہ جاتی پلیٹ فارم ہے۔ مارچ 2002ء میں بھارت اور عرب لیگ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے گئے تھے، جس کے بعد باضابطہ مکالمے کا فریم ورک قائم ہوا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دوسری بھارت عرب وزرائے خارجہ میٹنگ کے لئے بھارت عرب ممالک کے عرب لیگ کے کے درمیان بھارت اور تعاون کو اور عرب کو مزید
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :