پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کا جنوبی افریقا دورہ: تربیتی کیمپ پیر سے شروع
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کا جنوبی افریقا کے دورے کے لیے مختصر تربیتی کیمپ پیر سے شروع ہوگا، جس میں کھلاڑی اتوار کی شام تک رپورٹ کریں گی۔ یہ کیمپ نیشنل اسٹیڈیم کے حنیف محمد ہائی پرفارمنس سینٹر میں 6 فروری تک جاری رہے گا۔
سیریز کی قیادت فاطمہ ثنا کریں گی، جو ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ دونوں کی کپتان ہیں۔ مینٹور اور ہیڈ کوچ وہاب ریاض کی نگرانی میں عمران فرحت، عبد الرحمن اور عبدالمجید سمیت دیگر کوچنگ اسٹاف کھلاڑیوں کو حتمی تربیت فراہم کریں گے۔ کیمپ کے اختتام پر پاکستان ویمن اسکواڈ جنوبی افریقا کے لیے روانہ ہوگا۔
جنوبی افریقا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے ڈے اینڈ نائٹ میچز پوچف اسٹروم، بینونی اور کمبرلے میں کھیلے جائیں گے، جبکہ ون ڈے سیریز سے قبل کمبرلے میں 50 اوورز کا وارم اپ میچ ہوگا۔ ون ڈے میچز بلوم فونٹین، سینچورین اور ڈربن میں منعقد ہوں گے، جس میں دوسرا میچ ڈے اینڈ نائٹ ہوگا۔
یہ دورہ پاکستان ویمنز ٹیم کے لیے 2021 کے بعد پہلی دوطرفہ سیریز ہے۔ ٹیم نے فروری 2023 میں بھی جنوبی افریقا میں آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی تھی۔ یہ دورہ آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کی تیاریوں کا اہم مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان ویمنز ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ:
فاطمہ ثنا (کپتان)، عالیہ ریاض، عائشہ ظفر، ایمان فاطمہ، گل فیروزہ (وکٹ کیپر)، حمنا بلال، منیبہ علی (وکٹ کیپر)، نشرح سندھو، نتالیا پرویز، رامین شمیم، سعدیہ اقبال، سائرا جبین، سدرہ امین، تسمیہ رباب، طوبیٰ حسن۔
پاکستان ویمنز ون ڈے اسکواڈ:
فاطمہ ثنا (کپتان)، عالیہ ریاض، عائشہ ظفر، ڈیانا بیگ، گل فیروزہ، منیبہ علی (وکٹ کیپر)، نجیہہ علوی (وکٹ کیپر)، نشرح سندھو، نتالیا پرویز، رامین شمیم، صدف شمس، سعدیہ اقبال، سدرہ امین، سیدہ عروب شاہ، تسمیہ رباب۔
یہ سیریز پاکستان ویمنز کے لیے عالمی مقابلوں کی تیاری میں ایک اہم قدم ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان ویمنز جنوبی افریقا ٹی ٹوئنٹی ویمنز ٹی وکٹ کیپر کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔