کوئٹہ: دہشتگردی کے واقعات میں شہید پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا، اعلیٰ حکام کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والے بلوچستان پولیس کے بہادر اسپوتوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے، نماز جنازہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، صوبائی وزرا، اراکین اسمبلی اور آئی جی پولیس بلوچستان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: سیکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے حملے ناکام بنا دیے، 108 ہلاک، 10 جوان شہید
شہدا کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ یہ بہادر اسپوت ہمارے ماتھے کا جھومر اور قوم کا فخر ہیں، اور ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہدا کے ورثاء سے ملاقات کی اور ان سے تعزیت کی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ دہشتگرد عناصر کبھی ریاست اور عوام کے عزم کے سامنے کامیاب نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کوئٹہ پہنچ گئے، وزیراعلیٰ کے ہمراہ شہدا کے لواحقین سے ملاقات
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ شہدا کی قربانیوں سے ملک اور صوبے میں امن و امان کے قیام کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے اور ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بلوچستان پولیس اہلکار دہشتگرد حملے سیکیورٹی فورسز نماز جنازہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان پولیس اہلکار دہشتگرد حملے سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔