سانحہ گل پلازا کو 2 ہفتے ہوگئے، اب تک کچھ بھی نہیں ہوا، گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
تصویر، فیس بک، کامران ٹیسوری
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازا کو 2 ہفتے ہوگئے، اب تک کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔
گورنر سندھ سانحہ گل پلازا میں جاں بحق 6 افراد کے دہلی کالونی میں واقع گھر پہنچے اور کہا کہ میں ایسے گھر آیا ہوں، جہاں کے 1 ہی خاندان کے 6 افراد جھلس کر شہید ہوئے ہیں۔
سانحہ گل پلازا کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ نے سیکریٹری داخلہ سندھ کو جوابی خط ارسال کردیا۔
انہوں نے کہا کہ میرے پاس الفاظ نہیں کہ ان کو کیسے صبر دلایا جائے گا، سب ہی جاننا چاہتے ہیں ذمے دار کون ہیں، ان کو سزا ملے گی بھی یا نہیں۔
کامران ٹیسوری نے مزید کہا کہ سانحے کو 2 ہفتے ہوگئے اب تک کچھ نہیں ہوا، پنجاب میں ایک ماں بیٹی کی ہلاکت پر دوسرے دن انصاف نظر آتا، شکر عوام کے دباؤ پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس علاقے سے رکن صوبائی اسمبلی تحریک انصاف کا ہے، وہ بھی نہیں آئے، جماعت اسلامی کا ٹاؤن انچارج بھی یہاں نہیں پہنچا، انہیں شرم آنی چاہیے۔
گورنر سندھ نے یہ بھی کہا کہ آج بھی بلوچستان میں دہشت گردوں نے بلوچوں کو شہید کیا، دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی پر فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے اہل خانہ سے ملاقات میں دلی تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازا گورنر سندھ کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔