کپتان سلمان علی آغا کا ایک اور شاندار کارنامہ، ٹی ٹوئنٹی میں نئی تاریخ رقم
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے اپنی شاندار بیٹنگ سے ایک اور اہم سنگِ میل اپنے نام کر لیا ہے۔ انہوں نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے بطور کپتان تیز ترین نصف سنچری بنانے والوں کی فہرست میں دوسری پوزیشن حاصل کر لی۔
اعداد و شمار کے مطابق سلمان علی آغا نے صرف 25 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ یہ کارنامہ انہوں نے لاہور میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے میچ کے دوران انجام دیا، جہاں ان کی جارحانہ اننگز نے نہ صرف شائقین کو محظوظ کیا بلکہ ٹیم کی فتح میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
اس فہرست میں پہلی پوزیشن سابق کپتان محمد حفیظ کے پاس ہے، جنہوں نے 2012 میں احمد آباد میں بھارت کے خلاف محض 23 گیندوں پر نصف سنچری اسکور کی تھی۔ بابر اعظم دو مرتبہ 27 گیندوں پر ففٹی بنا چکے ہیں، ایک بار 2020 میں زمبابوے کے خلاف راولپنڈی میں اور دوسری بار 2021 میں جنوبی افریقہ کے خلاف سینچورین میں۔ اس کے علاوہ سابق کپتان شعیب ملک نے 2007 میں سری لنکا کے خلاف جوہانسبرگ میں 27 گیندوں پر نصف سنچری اسکور کی تھی۔
سلمان علی آغا کی یہ برق رفتار اننگز ان کی بہترین فارم کا واضح ثبوت ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ قیادت اور کارکردگی، دونوں محاذوں پر ٹیم کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سلمان علی ا غا گیندوں پر کے خلاف
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔