ایران میں یکے بعد دیگرے 2 خوفناک دھماکوں میں ہلاکتیں؛ اسرائیل کا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ایران کے مصروف ترین اور معروف تجارتی حب بندرگاہ بندرعباس میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے ہیں جن میں جانی اور مالی نقصان بھی ہوا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق خلیج فارس کے ساحلی شہر بندر عباس میں کے علاقے میں واقع ایک 8 منزلہ رہائشی عمارت میں دھماکا ہوا۔
یہ دھماکے عمارت کے 2 فلورز میں ہوئے جس میں اب تک ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ درجنوں گاڑیاں اور دکانیں تباہ ہوگئیں۔
ایرانی حکام نے بتایا کہ تاحال دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ ہر پہلو سے جائزہ لے رہے ہیں۔
اسی طرح ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان کے شہر اہواز میں بھی ایک اور دھماکا ہوا ہے جس میں چار ہلاکتوں اور 14 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
حکام کے مطابق اس واقعے کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاہم اس کی نوعیت ابتدائی طور پر حادثاتی معلوم ہوتی ہے۔
یہ دونوں دھماکے اس وقت ہوئے جب اسرائیل اور امریکا نے جوہری معاہدے کی میز پر آنے کے لیے ایران کو بڑی فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
امریکا کا ایک بڑا جنگی بحری بیڑہ آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں میں مصروف ہے اور ایک میزائل بردار جہاز ایلات میں لنگر انداز ہوچکا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایران میں دھماکوں پر اسرائیل سے رابطہ کیا تو دو اعلیٰ عہدیداروں نے بتایا کہ ایران میں ہونے والے دھماکوں سے اسرائیل کا کوئی تعلق نہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس قسم کی کوئی بھی کارروائی ابھی زیر غور نہیں لیکن اپنے دفاع کے لیے ہر وقت چوکنا ہیں اور کسی بھی جارحیت کا فوری و منہ توڑ جواب دیں گے۔
البتہ امریکا کی جانب سے ایران میں ہونے والے دھماکوں میں تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا حالانکہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ انھوں نے ایران کو ڈیڈ لائن دیدی ہے۔
ایران نے بھی فوری طور پر ان دھماکوں کی ذمہ داری اسرائیل یا امریکا میں کسی بھی ملک پر عائد نہیں کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران میں
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔