یورپی ملک ہالینڈ کی شہریت کے خواہشمند افراد کے لیے بڑا ریلیف
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یورپی ملک ہالینڈ کی شہریت حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کو حکام نے بڑا ریلیف دیتے ہوئے 10 سال وہاں رہائش کی شرط ختم کردی۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈچ حکومت نے دوہری شہریت سے متعلق قوانین تو تبدیل نہیں کررہی مگر تارکین وطن کو ایک بڑی سہولت فراہم کردی ہے، تمام غیر ملکیوں کے لیے ڈچ بنتے وقت پرانے قوانین کو تبدیل نہیں کیا گیا تاہم ملک میں 10 سال کی رہائش کی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے۔
بیرون ملک مقیم ڈچ شہری جرمنی، بیلجیئم، فرانس اور برطانیہ کے لوگوں کے مقابلے میں “جلد” اپنے اپنے ڈچ پاسپورٹ محروم نہیں ہوں گے، لیکن نیدرلینڈز میں نئے آنے والے جو نیدرلینڈز کی شہریت حاصل کرنا چاہتے ہیں انھیں اپنی دوسری قومیت ترک کرنا ہوگی۔
عملی طور پر اس کا اب بھی یہی مطلب ہے کہ نیدرلینڈز اور آسٹریا واحد یورپی یونین کے ممالک ہیں جہاں اب بھی دوہری شہریت کی اجازت نہیں دینے کے حق میں یں۔
جرمنی نے حال ہی میں ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت لوگ جرمن ہونے پر اپنی اصل قومیت برقرار رکھ سکتے ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ اصل میں ڈچ ہیں انھیں ایک سے زیادہ پاسپورٹ رکھنے کی اجازت دینا امتیازی سلوک ہوگا لیکن نئے ڈچ شہریوں کو اس کی اجازت حاصل نہیں ہوگی۔
لنکڈ ان پر ایک پوسٹ میں فلورنس میں یورپی یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ میں شہریت سے متعلق پروفیسر مارٹن وِنک کے مطابق، قومیت کے قانون کو تبدیل کرنے کے لیے اگلی ڈچ حکومت کے منصوبے “مبہم، اخلاقی طور پر متضاد اور عملی طور پر ناممکن” ہیں۔
امیگریشن کے وکیل جیریمی بیئرباخ کا کہنا ہے کہ “اس سے واضح طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غیرملکی پناہ گزینوں کی ضروریات کو نمایاں طور پر تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔