Express News:
2026-07-24@04:17:28 GMT

ماں کی وصیت

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

’’اگر دشمن تمہارا بھائی ہو، تو اپنی شکست کا اعلان کر دو۔‘‘

ماں کی وصیت۔

اسکرولنگ ٹھہرگئی، بات توجہ طلب تھی۔ دشمن وہ ہوتا ہے جو آپ کا برا چاہتا ہے، اسے آپ کے ہر نفع دینے والی جگہ کو نقصان دیکھنا ہے، ہرکامیابی کو ناکامی میں دیکھنا ہے، سکون کو بے سکون کر دینا ہے، ہر ایک چیز میں آپ کے مثبت انداز میں مداخلت، مایوسی اور ناکامی چاہنے والا دشمن کہلاتا ہے۔

جس سے لڑنے، ناکام کردینے، پیچھے دھکیلنے میں آپ کی کامیابی پنہاں ہے کہ دشمن ہے پر ماں کی وصیت میں اس ایک بات کے کئی پہلو نظر آتے ہیں، گویا سب آپ کے بھائی ہیں، سوال دشمن سے ہے کہ اگر دشمن تمہارا بھائی ہو تو۔

بھائی سے نہیں، لیکن دشمن اور بھائی ایک ہو تو پھر کیا کرو گے۔ سر تھام کے رہ جاؤ گے کہ اب کیا کریں، اس سے لڑیں یا ہتھیار ڈال دیں، اس پل ماں کی وصیت پکڑ لیں اور اپنی شکست کا اعلان کر دیں۔

پاکستان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ بورڈ آف پیس میں شامل کرنے کا دعوت نامہ دیا گیا جسے پاکستان نے قبول کر لیا۔

یہ بورڈ آف پیس ہے کیا؟ دراصل یہ ایک ایسی بین الاقوامی تنظیم ہے جو بین الاقوامی قوانین کے تحت امن سازی کے فرائض انجام دے گا۔ یہ استحکام کو فروغ دینے، تنازعات سے متاثرہ یا خطرے میں گھرے علاقوں میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کی کوشش اور استحکام کو فروغ دینے سے متعلق ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تنظیم کے چیئرمین ہیں، اس کے ایگزیکٹیو ارکان کے انتخاب کا حق انھیں حاصل ہے، یہ ارکان عالمی سطح کے رہنما دو سال تک اپنی خدمات انجام دیں گے، چیئرمین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان ارکان کو برطرف بھی کر سکتے ہیں۔

چیئرمین یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کو صرف نااہلی کی صورت میں یا ان کی جانب سے رضاکارانہ استعفے میں ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

اس ایگزیکٹیو بورڈ کے ارکان میں امریکا کے وزیر خارجہ، ٹرمپ کے خصوصی مذاکرات کار، ان کے داماد ٹونی بلیئر، امریکی ارب پتی سرمایہ کار مارک روان، عالمی بینک کے صدر اور ٹرمپ کے ہی چند اور خیر خواہ۔

انھوں نے بہت سارے ممالک کے رہنماؤں کو دعوت بھی دی ہے کہ وہ اس بین الاقوامی تنظیم کا حصہ بنیں۔ یہ بھی ایک لمبی فہرست ہے بہرحال اس میں پاکستان اور بھارت کے نام بھی شامل تھے، پاکستان نے تو جیسا کہ سب نے دیکھا اور پڑھا بھی ہے کہ ٹرمپ کے اس دعوت نامے کو’ اوکے‘ کہہ دیا، جب کہ کینیڈا نے مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر فیس ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ٹرمپ یقینا ایک اچھے کاروباری ہیں انھیں ڈوبتے بزنس کو سنبھالنے اور چلانے کا تجربہ بھی ہے، اس بین الاقوامی تنظیم کا کوئی بھی مقصد ہو، ان کی کاروباری شرائط ان کے عزائم کو ظاہر کرتی ہیں۔

اس تمام کاروباری گڈ فریم میں سب کچھ اچھا کر دکھانے کے نکات بھی بظاہر شامل ہی ہیں، لیکن ایک برا بیوپاری اچھے کاروباری سے ٹکراتا رہتا ہے۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں جو فساد پیدا ہوتا ہے اس کا تخمینہ لگانا بہت مشکل ہے۔

ابھی سال بھر پہلے ہی ایک خوبصورت ریزورٹ کے پلان پر جو کام کیا گیا وہ دکھایا بھی گیا تھا۔ اس دوران غزہ کی جانب سے ابتر ویڈیوز اور تصاویر ایک دنیا نے دیکھیں۔

لوگ رکے نہیں اور ایک احتجاج کی لہر اٹھی لیکن انجام ندارد۔ مسائل نہ سلجھے، بمباری نہ تھمی، نسل کشی جاری رہی۔ اب بھی حالات کس نہج پر چل رہے ہیں کچھ کہنا مشکل ہے کہ سب ہی جانتے ہیں۔

بہترین بولی لگانے والے اپنی چرب زبانی سے آگے نکل ہی جاتے ہیں اور ان کے کام بن بھی جاتے ہیں لیکن حقائق کی روشنی میں صورت حال کرب ناک ہے۔

کہا تو یہی جا رہا ہے کہ مستقل جنگ بندی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ غزہ کی تعمیر نو اور انسانوں کی مدد میں اضافہ کیا جائے گا، اگر یہ مان لیا جائے تو پھر اقوام متحدہ کے کردار پر سوال اٹھتے ہیں کہ آخر وہ کس مرض کی دوا ہے اس کے تحت چلنے والے ادارے آخر کرکیا رہے ہیں یا ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کے متبادل ایک ادارہ بنا کر اس کی حیثیت کو مشکوک کر رہے ہیں۔

امریکا کی سپریم حیثیت یقینا اس بین الاقوامی تنظیم کی صورت میں اور واضح ہوگی۔ روس اور چین جو پہلے ہی امریکی طاقت کے بڑھتے اثرات سے خائف نظر آتے ہیں اس نئی صورت حال پرکیا مطمئن رہ سکتے ہیں یا ڈونلڈ ٹرمپ بظاہر اپنی سیاسی بصارت کے تحت کمال پرکمال کرتے جا رہے ہیں اور امریکی عوام کو تنہا کرنے کی حماقت کر رہے ہیں۔ اونچی بلند فصیلوں میں کمزور قید عوام۔

بھارت اس تنظیم میں شامل ہونے میں جھجک رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اسے پاکستان کے قیام سے ہی مسائل رہے ہیں اور اب اس کی دکھتی رگ کشمیر جو کب سے پھڑک رہی ہے، سوال اٹھ سکتا ہے کہ جس طرز پر پاکستان فلسطین کے لیے شمولیت اختیار کر سکتا ہے۔

کشمیر کے لیے بھی اس تنظیم کے اثر کو استعمال کر سکتا ہے اور بس یہاں بھارت اور پاکستان کی وہ روایتی دشمنی کی تلخیاں عود کر آتی ہیں جہاں کشمیر کی آزادی کے حوالے سے کوئی بھی پوائنٹ چھڑ سکتا ہو۔

بہرحال ابھی مسئلہ فلسطین کے حل کے بجائے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو مستقل بنانا اور فلسطینی علاقوں میں ایک حکومت کی نگرانی کرنا ہے، لیکن ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ’’ یہ صرف امریکا کے لیے نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے، میرا خیال ہے کہ ہم اسے دوسری جگہوں پر پھیلا سکتے ہیں، جیسا کہ ہم نے غزہ میں کامیابی سے کیا‘‘ سوال کھڑے کرتا ہے کہ کیا واقعی اس تنظیم کا مقصد اور عمل اتنا ہی شفاف ہو سکتا ہے جیساکہ بیان کیا جا رہا ہے۔

امریکا دنیا بھر میں نمبر ون پر رہ کر دوسرے ممالک کو کنٹرول کرنے اور اجارہ داری کی مثال تو نہیں بن رہا، کیا دنیا اس سب کو اتنی آسانی سے برداشت کر لے گی؟

فلسطین میں بسنے والے ہمارے مسلمان بھائی ہیں جو گزشتہ چار پانچ دہائیوں سے صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ ان کے درمیان نااتفاقیاں بھی ہیں ، جس کے باعث وہ ایک ہو کر اپنی بات، مسائل اور اس کے حل کو بھی شیئر نہیں کر سکتے کیا یہود و نصاریٰ سے ہم اس یکجہتی کی توقع کر سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی تنظیم ماں کی وصیت ڈونلڈ ٹرمپ سکتے ہیں سکتا ہے رہے ہیں ہیں اور کے لیے

پڑھیں:

آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھکمی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا تو امریکہ اس کے جواب میں ایران کا ایک پل یا ایک پاور پلانٹ تباہ کر دے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹر مپ نے  لکھا کہ آج سے اگر اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی بھی دوسرے ہتھیار سے حملہ کرتا ہے تو امریکہ اس کے بدلے میں ایران کا ایک پل یا ایک پاور پلانٹ تباہ کرے گا، جن میں تہران کے اندر یا اس کے قریب واقع تنصیبات بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہو۔ گزشتہ ہفتے  ایک انٹرویو میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر نہیں آیا تو امریکا اس کے تمام پل تباہ کر دے گا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل