Express News:
2026-06-02@22:29:58 GMT

ماں کی وصیت

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

’’اگر دشمن تمہارا بھائی ہو، تو اپنی شکست کا اعلان کر دو۔‘‘

ماں کی وصیت۔

اسکرولنگ ٹھہرگئی، بات توجہ طلب تھی۔ دشمن وہ ہوتا ہے جو آپ کا برا چاہتا ہے، اسے آپ کے ہر نفع دینے والی جگہ کو نقصان دیکھنا ہے، ہرکامیابی کو ناکامی میں دیکھنا ہے، سکون کو بے سکون کر دینا ہے، ہر ایک چیز میں آپ کے مثبت انداز میں مداخلت، مایوسی اور ناکامی چاہنے والا دشمن کہلاتا ہے۔

جس سے لڑنے، ناکام کردینے، پیچھے دھکیلنے میں آپ کی کامیابی پنہاں ہے کہ دشمن ہے پر ماں کی وصیت میں اس ایک بات کے کئی پہلو نظر آتے ہیں، گویا سب آپ کے بھائی ہیں، سوال دشمن سے ہے کہ اگر دشمن تمہارا بھائی ہو تو۔

بھائی سے نہیں، لیکن دشمن اور بھائی ایک ہو تو پھر کیا کرو گے۔ سر تھام کے رہ جاؤ گے کہ اب کیا کریں، اس سے لڑیں یا ہتھیار ڈال دیں، اس پل ماں کی وصیت پکڑ لیں اور اپنی شکست کا اعلان کر دیں۔

پاکستان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ بورڈ آف پیس میں شامل کرنے کا دعوت نامہ دیا گیا جسے پاکستان نے قبول کر لیا۔

یہ بورڈ آف پیس ہے کیا؟ دراصل یہ ایک ایسی بین الاقوامی تنظیم ہے جو بین الاقوامی قوانین کے تحت امن سازی کے فرائض انجام دے گا۔ یہ استحکام کو فروغ دینے، تنازعات سے متاثرہ یا خطرے میں گھرے علاقوں میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کی کوشش اور استحکام کو فروغ دینے سے متعلق ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تنظیم کے چیئرمین ہیں، اس کے ایگزیکٹیو ارکان کے انتخاب کا حق انھیں حاصل ہے، یہ ارکان عالمی سطح کے رہنما دو سال تک اپنی خدمات انجام دیں گے، چیئرمین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان ارکان کو برطرف بھی کر سکتے ہیں۔

چیئرمین یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کو صرف نااہلی کی صورت میں یا ان کی جانب سے رضاکارانہ استعفے میں ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

اس ایگزیکٹیو بورڈ کے ارکان میں امریکا کے وزیر خارجہ، ٹرمپ کے خصوصی مذاکرات کار، ان کے داماد ٹونی بلیئر، امریکی ارب پتی سرمایہ کار مارک روان، عالمی بینک کے صدر اور ٹرمپ کے ہی چند اور خیر خواہ۔

انھوں نے بہت سارے ممالک کے رہنماؤں کو دعوت بھی دی ہے کہ وہ اس بین الاقوامی تنظیم کا حصہ بنیں۔ یہ بھی ایک لمبی فہرست ہے بہرحال اس میں پاکستان اور بھارت کے نام بھی شامل تھے، پاکستان نے تو جیسا کہ سب نے دیکھا اور پڑھا بھی ہے کہ ٹرمپ کے اس دعوت نامے کو’ اوکے‘ کہہ دیا، جب کہ کینیڈا نے مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر فیس ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ٹرمپ یقینا ایک اچھے کاروباری ہیں انھیں ڈوبتے بزنس کو سنبھالنے اور چلانے کا تجربہ بھی ہے، اس بین الاقوامی تنظیم کا کوئی بھی مقصد ہو، ان کی کاروباری شرائط ان کے عزائم کو ظاہر کرتی ہیں۔

اس تمام کاروباری گڈ فریم میں سب کچھ اچھا کر دکھانے کے نکات بھی بظاہر شامل ہی ہیں، لیکن ایک برا بیوپاری اچھے کاروباری سے ٹکراتا رہتا ہے۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں جو فساد پیدا ہوتا ہے اس کا تخمینہ لگانا بہت مشکل ہے۔

ابھی سال بھر پہلے ہی ایک خوبصورت ریزورٹ کے پلان پر جو کام کیا گیا وہ دکھایا بھی گیا تھا۔ اس دوران غزہ کی جانب سے ابتر ویڈیوز اور تصاویر ایک دنیا نے دیکھیں۔

لوگ رکے نہیں اور ایک احتجاج کی لہر اٹھی لیکن انجام ندارد۔ مسائل نہ سلجھے، بمباری نہ تھمی، نسل کشی جاری رہی۔ اب بھی حالات کس نہج پر چل رہے ہیں کچھ کہنا مشکل ہے کہ سب ہی جانتے ہیں۔

بہترین بولی لگانے والے اپنی چرب زبانی سے آگے نکل ہی جاتے ہیں اور ان کے کام بن بھی جاتے ہیں لیکن حقائق کی روشنی میں صورت حال کرب ناک ہے۔

کہا تو یہی جا رہا ہے کہ مستقل جنگ بندی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ غزہ کی تعمیر نو اور انسانوں کی مدد میں اضافہ کیا جائے گا، اگر یہ مان لیا جائے تو پھر اقوام متحدہ کے کردار پر سوال اٹھتے ہیں کہ آخر وہ کس مرض کی دوا ہے اس کے تحت چلنے والے ادارے آخر کرکیا رہے ہیں یا ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کے متبادل ایک ادارہ بنا کر اس کی حیثیت کو مشکوک کر رہے ہیں۔

امریکا کی سپریم حیثیت یقینا اس بین الاقوامی تنظیم کی صورت میں اور واضح ہوگی۔ روس اور چین جو پہلے ہی امریکی طاقت کے بڑھتے اثرات سے خائف نظر آتے ہیں اس نئی صورت حال پرکیا مطمئن رہ سکتے ہیں یا ڈونلڈ ٹرمپ بظاہر اپنی سیاسی بصارت کے تحت کمال پرکمال کرتے جا رہے ہیں اور امریکی عوام کو تنہا کرنے کی حماقت کر رہے ہیں۔ اونچی بلند فصیلوں میں کمزور قید عوام۔

بھارت اس تنظیم میں شامل ہونے میں جھجک رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اسے پاکستان کے قیام سے ہی مسائل رہے ہیں اور اب اس کی دکھتی رگ کشمیر جو کب سے پھڑک رہی ہے، سوال اٹھ سکتا ہے کہ جس طرز پر پاکستان فلسطین کے لیے شمولیت اختیار کر سکتا ہے۔

کشمیر کے لیے بھی اس تنظیم کے اثر کو استعمال کر سکتا ہے اور بس یہاں بھارت اور پاکستان کی وہ روایتی دشمنی کی تلخیاں عود کر آتی ہیں جہاں کشمیر کی آزادی کے حوالے سے کوئی بھی پوائنٹ چھڑ سکتا ہو۔

بہرحال ابھی مسئلہ فلسطین کے حل کے بجائے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو مستقل بنانا اور فلسطینی علاقوں میں ایک حکومت کی نگرانی کرنا ہے، لیکن ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ’’ یہ صرف امریکا کے لیے نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے، میرا خیال ہے کہ ہم اسے دوسری جگہوں پر پھیلا سکتے ہیں، جیسا کہ ہم نے غزہ میں کامیابی سے کیا‘‘ سوال کھڑے کرتا ہے کہ کیا واقعی اس تنظیم کا مقصد اور عمل اتنا ہی شفاف ہو سکتا ہے جیساکہ بیان کیا جا رہا ہے۔

امریکا دنیا بھر میں نمبر ون پر رہ کر دوسرے ممالک کو کنٹرول کرنے اور اجارہ داری کی مثال تو نہیں بن رہا، کیا دنیا اس سب کو اتنی آسانی سے برداشت کر لے گی؟

فلسطین میں بسنے والے ہمارے مسلمان بھائی ہیں جو گزشتہ چار پانچ دہائیوں سے صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ ان کے درمیان نااتفاقیاں بھی ہیں ، جس کے باعث وہ ایک ہو کر اپنی بات، مسائل اور اس کے حل کو بھی شیئر نہیں کر سکتے کیا یہود و نصاریٰ سے ہم اس یکجہتی کی توقع کر سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی تنظیم ماں کی وصیت ڈونلڈ ٹرمپ سکتے ہیں سکتا ہے رہے ہیں ہیں اور کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد