Express News:
2026-07-24@03:42:54 GMT

اعتبار ساجد بھی ہم سے بچھڑ گئے

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT

شاعری کے جدید تر منظر نامے میں جن شاعروں کے کلام نے میرے درِ ذوقِ سخن پر محبت سے دستک دی ہے، اُن میں اعتبار ساجد کا نام بھی شامل ہے۔ جن کا شمار دورِ حاضر میں اُردو کے مقبول ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی مقبولیت کا سبب وہ رومانی شاعری ہے جس میں غنائیت اور نغمگی کے سا تھ ساتھ ہجر و وصال کی کیفیتوں کو بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔

وصال میں بھی ترے وصل کے رہے طالب

کہ ہم سے جو بھی ہُوا کام، شاعرانہ ہُوا

اعتبار ساجد کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے بیک وقت متنوع اصنافِ نظم و نثر کے لیے اپنے قلم کو استعمال کیا اور شاعری، کالم نگاری، ادبی مکالموں اور تحقیق کے علاوہ شعبہ تدریس اور ادبی صحافت میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، لیکن ان کی شاعری کے بارے میں میرا اپنا ایک نقطہ نظر ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کی بعض غزلوں کے اشعار دل سے روح تک اُترنے میں دیر نہیں لگاتے بلکہ اپنا ایک مخصوص اثر چھوڑ جاتے ہیں ۔

ذرا سی فرمائش بھی پوری کر نہیں سکتے

محبت کرنے والے لوگ بھی لاچارکیسے ہیں

اعتبار ساجد اپنے اندازِ سخن اور اسلوبِ بیان کے لحاظ سے ایسے منفرد شاعر ہیں جن کا مزاج عاشقانہ ہے،کیونکہ انھوں نے اپنی غزل کو تغزل کی پوری رعنائی اور نزاکتوں کے ساتھ سنوارا ہے، ان کے ہاں عشق مجازی بھی ہے اور عشق حقیقی بھی۔

اسی لیے ان کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے، اس بات کا احساس شدت سے ہوتا ہے کہ ان کے اندر ایک نرم و گداز شاعر چھپا بیٹھا ہے جو اپنا اظہار بڑی سادگی سے کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں چیخ وپکار، مار دھاڑ نہیں بلکہ اس میں کوئل کی ایسی مدھ بھری آواز ہے جو کان پرکم اور دل پر زیادہ اثر ڈالتی ہے۔

جس سے سننے اور محسوس کرنے والے کی روح پر ایسا وجد طاری ہو جاتا ہے جس سے انسان محبوب کی بارگاہ میں دھمال ڈالنے لگتا ہے۔ ایسا ہی ان کا ایک شعر دیکھے جس میں وہ اپنی روح اور متاعِ جاں کی سانس تک کو دوسروں کی امانت کردیتے ہیں۔

ترا قرض ہے مری زندگی مرے پاس اپنا توکچھ نہیں

مری روح، میری متاعِ جاں، مرے سانس، تیری امانتیں

اعتبار ساجد اپنے ابتدائی دورکے حوالے سے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’’ میں نے جب لکھنے پڑھنے کی دنیا میں قدم رکھا تھا تو وہ اخلاق اور علمی اقدار کے دورکا عروج تھا۔ ہر شخص نہ ادیب و شاعر بن سکتا تھا، نہ اس زمانے کے مقتدر رسائل و جرائد تک پہنچ سکتا تھا،کیونکہ ایڈیٹروں کی کرسیوں پر وہ لوگ براجمان تھے جو صاحبِ مطالعہ اور بہت زیرک اور دور اندیش ہوتے تھے۔

ان کی چھلنی سے جو تحریریں چھن کر نکلتی تھیں وہ واقعی معیار کے لحاظ سے بہترین نہیں تو بہتر ضرور ہوتی تھیں۔ ‘‘ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری اور نثری تخلیقات میں پائے جانے والا رنگ ایسے ہی صاحبِ مطالعہ اور زیرک اندیش لوگوں سے سیکھنے کا ثمر ہے۔

جس کی وجہ سے آج وہ زندگی کے اُس مقام پرکھڑے ہیں جہاں لوگ ان سے نہ صرف پیارکرتے ہیں بلکہ ان کا اعتبارکرتے ہوئے ہر محفل میں ان کا انتظارکرتے ہیں۔ بقول شاعر

لوگ ایسے جو قیمتی بھی ہو

اُن میں ترا شمار کرتے ہیں

محبتیں، چاہتیں اور شہرتیں سمیٹنے والا یہ شاعر اپنی محبت میں ناکام رہا اور اپنی زندگی میں کسی کو شریک کرنے سے محروم رہے یا جھجکتا رہے لیکن انھوںنے دوسروں کو بھرپور محبت کا احساس دیا اورجس کا جواب ہمیں ان کے شعری مجموعے ’’ جانم‘‘ کی صورت میں ملا۔ جسے پڑھنے کے بعد بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔

آتشِ دل ہے کہ ہوتی ہی نہیں کم، جانم

اب تو شعلوں کی زباں پر بھی ہے جانم، جانم

میری آنکھوں میں نہ ڈھونڈا کرو آنسو میرے

میں نے سینے میں چھپا رکھا ہے ہر غم، جانم

اعتبار ساجد کے بے شمار شعری اور نثری مجموعے ابتک شائع ہو چکے ہیں جب کہ عالمی ادبی کانفرنسوں، مشاعروں اور سیمیناروں میں متعدد بار پاکستان کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں۔

ان کی فن و شخصیت پر بی اے آنرز، ایم اے، ایم فل کے مقالہ جات بھی لکھے جا چکے ہیں، جب کہ دیگر قومی اخبارات کے ایڈیشنزکے علاوہ بے شمار رسائل و جرائد نے خصوصی نمبرز بھی شائع کیے ہیں۔

ان کی کتابوں نے مقبولیت کے شاندار ریکارڈ قائم کیے ہیں اور اب ان کی شاعری کے شائقین کی تعداد لاکھوں سے تجاوزکر کے پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک زمانہ تھا جب پبلشرز اچھی کتاب چھاپنے پر لکھاری کو منہ مانگے معاوضہ دیتے مگر وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ ایسا ناممکن ہوگیا، لکھاری خود ہی پبلشرز بن کر اپنی کتابیں شائع کرتے ہوئے شہرت کی بلندیوں کے خواب دیکھنے لگے مگر ایسا نہ ہو سکا۔

’’ اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت۔‘‘اعتبار ساجد کو اللہ تعالیٰ نے عزت اور شہرت کے ساتھ ساتھ وہ سب کچھ عطا کیا جس کے وہ طلب گار تھے۔

ان کی وجہ شہرت کا باعث بننے والا شعری مجموعہ ’’ مجھے کوئی شام اُدھار دو‘‘ ہے جس کے اب تک کئی ایڈیشنز منظرِ عام پر آ کر داد و تحسین سمیٹ چکے ہیں۔ ان کے اس شعری مجموعے پر پھر کسی وقت لکھنے کا اتفاق کرتے ہوئے ان کی مشہورِ زمانہ غزل کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے:

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں میرے دل سے بوجھ اُتار دو

میں بہت سے دنوں سے اُداس ہوں مجھے کوئی شام اُدھار دو

مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال و خد

مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو، مرے سارے زنگ اُتار دو

’’اعتبار ساجد کی فن اور شخصیت‘‘ یہ کتاب ملتان کے مقبول شاعر، ہر دلعزیز نثر نگار اور ادب نواز کتاب دوست مامون طاہر رانا کی برسوں کی محنت، کھوج اور جستجوئے فکر کا نتیجہ ہے جس میں انھوں نے اعتبار ساجد کے فن اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو مشاہیر پاک و ہند کے مضامین اور تاثرات کی مدد سے ترتیب دیا ہے۔

اس کتاب میں سیکڑوں مضامین، انٹرویوز اور اقتباسات کو جمع کر کے معیاری مواد کو شامل کیا گیا ہے۔ مجھ ناچیز کو بھی اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ’’ پاکستانی ادب کے معمار‘‘ سیریز میں اعتبار ساجد کی شخصیت اور فن پر کتاب لکھنے کا موقع ملا۔

جسے میں نے اُن کی زندگی میں ہی مکمل کر کے اکادمی کو مسودہ ارسال کیا۔ افسوس یہ کام ان کی زندگی میں تو منظرِ عام پر نہ آسکا شائد ان کی وفات کے بعد چھپ کر ان کے چاہنے والوں میں اُن کی یادوں کے دیپ روشن کر سکے۔

ان کی وفات بروز منگل 27 جنوری 2026 کو لاہور میں ہوئی ان کی تدفین مومن پورہ قبرستان میں کی گئی۔ اعتبار ساجد کا سب دل سے احترام کرتے تھے اور محبت کے ساتھ ان کے کلام کو نہ صرف سنتے تھے بلکہ محسوس بھی کرتے تھے۔ ان کے اشعار ذہنوں میں نقش، دلوں پر راج اور روح میں تازگی پیدا کرتے ہیں۔ اعتبار ساجد وہ شاعر تھے جن کی کتابوں کو اب تک تکیے کے نیچے رکھا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ان کی شاعری کرتے ہوئے کرتے ہیں ہے کہ ان کے ساتھ

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی