Jasarat News:
2026-06-02@22:14:38 GMT

کرنسی مارکیٹس میں کوئی خوف نہیں ،ملک محمدبوستان

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر)ایکس چینج ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای کیپ)کے چیئرمین ملک محمدبوستان نے کہا ہے کہ بھارت کے پاکستانی حدود میں بزدلانہ حملے کے باوجود پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں روپیہ مستحکم ہے، ہم حکومت کو جنگی حالات اور ایمرجنسی میں حکومت کو ایک ارب ڈالر ماہانہ دے سکتے ہیں۔ملک محمد بوستان نے بھارت کے ساتھ کشیدہ صورتحال پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے خریدار نہیں تھے،کشیدہ صورتحال کے باوجود اب بھی ایکسچینج کمپنیز نے دس ملین ڈالر انٹر بینک مارکیٹ میں فروخت کیے ہیں، کرنسی مارکیٹس میں کوئی خوف نہیں ہے۔چیئرمین ای کیپ ملک بوستان نے کہا کہ یومیہ 25 ملین ڈالر انٹر بینک میں دے رہے ہیں اوراگر کوئی ایمرجنسی ہوتی ہے تو حکومت کو ماہانہ ایک ارب ڈالر دے سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری پاک افواج نے جس طرح جواب دیا ہے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا ہے،آرمی چیف اور پوری فوج کو سلام پیش کرتے ہیں پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے،فلائٹ آپریشنز نارمل ہوتے ہی ڈالرز کی آمد مزید بڑھے گی۔ملک بوستان نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی سے امریکی ڈالر کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،اسٹیٹ بینک نے ایکس چینج ریٹ مستحکم رکھنے کے لیے گزشتہ 2سال میں9ارب ڈالر خریدے ہیں جبکہ ایکس چینج کمپنیوں نے گزشتہ سال انٹربینک مارکیٹ کو6ارب ڈالر دیے، حکومت چاہے تو ترسیلات زر ماہانہ 4ارب ڈالر سے بڑھ کر8ارب ڈالر ہوسکتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈالر کی اصل قیمت 250 روپے ہے مگر آئی ایم ایف دبائو اورایکسپورٹرز کی وجہ سے کم نہیں کیا جارہا۔ملک محمدبوستان نے کہا کہ حکومت جلد ہی ایکس چینج کمپنیوں کو پی آر آئی سسٹم سے منسلک کردے گی۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایکس چینج نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان