کرنسی مارکیٹس میں کوئی خوف نہیں ،ملک محمدبوستان
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)ایکس چینج ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای کیپ)کے چیئرمین ملک محمدبوستان نے کہا ہے کہ بھارت کے پاکستانی حدود میں بزدلانہ حملے کے باوجود پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں روپیہ مستحکم ہے، ہم حکومت کو جنگی حالات اور ایمرجنسی میں حکومت کو ایک ارب ڈالر ماہانہ دے سکتے ہیں۔ملک محمد بوستان نے بھارت کے ساتھ کشیدہ صورتحال پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے خریدار نہیں تھے،کشیدہ صورتحال کے باوجود اب بھی ایکسچینج کمپنیز نے دس ملین ڈالر انٹر بینک مارکیٹ میں فروخت کیے ہیں، کرنسی مارکیٹس میں کوئی خوف نہیں ہے۔چیئرمین ای کیپ ملک بوستان نے کہا کہ یومیہ 25 ملین ڈالر انٹر بینک میں دے رہے ہیں اوراگر کوئی ایمرجنسی ہوتی ہے تو حکومت کو ماہانہ ایک ارب ڈالر دے سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری پاک افواج نے جس طرح جواب دیا ہے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا ہے،آرمی چیف اور پوری فوج کو سلام پیش کرتے ہیں پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے،فلائٹ آپریشنز نارمل ہوتے ہی ڈالرز کی آمد مزید بڑھے گی۔ملک بوستان نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی سے امریکی ڈالر کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،اسٹیٹ بینک نے ایکس چینج ریٹ مستحکم رکھنے کے لیے گزشتہ 2سال میں9ارب ڈالر خریدے ہیں جبکہ ایکس چینج کمپنیوں نے گزشتہ سال انٹربینک مارکیٹ کو6ارب ڈالر دیے، حکومت چاہے تو ترسیلات زر ماہانہ 4ارب ڈالر سے بڑھ کر8ارب ڈالر ہوسکتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈالر کی اصل قیمت 250 روپے ہے مگر آئی ایم ایف دبائو اورایکسپورٹرز کی وجہ سے کم نہیں کیا جارہا۔ملک محمدبوستان نے کہا کہ حکومت جلد ہی ایکس چینج کمپنیوں کو پی آر آئی سسٹم سے منسلک کردے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایکس چینج نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند