تھرپارکر میں پھر بچوں کی ہلاکتیں
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تھرپارکر سے پھر خبر ان معصوم جانوں کی ہے جو زندگی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو رہی ہیں۔ صرف پانچ دنوں میں سول اسپتال مٹھی میں زیر ِ علاج مزید چھے بچے دم توڑ گئے، جبکہ ایک ماہ کے دوران مختلف بیماریوں اور غذائی قلت کے باعث جاں بحق بچوں کی تعداد پچاس تک پہنچ چکی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق یہ بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے اور ان کی قوتِ مدافعت انتہائی کمزور تھی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایک بچے کی قوتِ مدافعت اتنی کم کیوں ہوتی ہے کہ وہ معمولی بیماری کا مقابلہ بھی نہ کر سکے؟ اس کا جواب مشکل نہیں تھر جانے والے جب تھر کے گھروں، جھونپڑیوں اور خالی باورچی خانوں میں دیکھتے ہیں تو مل جاتا ہے وہاں، غذائی قلت، صاف پانی کی کمی، بنیادی صحت کی سہولتوں کا فقدان اور غربت، یہ سب وہ عوامل ہیں جو برسوں سے تھرپارکر کے بچوں کو نگل رہے ہیں۔ ایم ایس سول اسپتال مٹھی کا یہ بیان کہ بچوں کی موت کی بڑی وجہ گھروں میں زچگیاں اور کم وزن کے ساتھ پیدائش ہے، اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، مگر یہ بیان خود ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے۔ آخر تھر کی خواتین گھروں میں زچگی پر مجبور کیوں ہیں؟ کیوں آج بھی دور دراز دیہات میں لیڈی ہیلتھ ورکرز، بنیادی مراکز ِ صحت اور محفوظ زچگی کی سہولتیں ناپید ہیں؟ کم وزن کے ساتھ پیدا ہونے والا بچہ کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل غذائی قلت، ماں کی کمزوری اور ریاستی ناکامی کی علامت ہوتا ہے۔ کہاں وہ پیپلز پارٹی جو کہتی ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو تھر کی ترقی سب سے زیادہ عزیز ہے، یہ ہے وہ ترقی جو کراچی کی طرح تھر بھی برسوں سے دیکھ رہا ہے،گزشتہ سترہ سال اور اس سے قبل سے تھر کے لوگوں کے لیے یہ باتیں ہورہی ہیں۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ تھرپارکر میں بچوں کی اموات کی خبریں سامنے آئی ہوں۔ ہر سال، ہر موسم ِ خشک سالی میں یہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ کبھی قحط کا بہانہ بنایا جاتا ہے، کبھی موسمی حالات کو ذمے دار ٹھیرایا جاتا ہے اور کبھی وسائل کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تھر کی اصل بیماری قحط نہیں بلکہ مستقل غفلت بے حس حکمراں ہیں۔ اگر مسئلہ صرف بارش کا ہوتا تو ہر سال بارش کے بعد یہ خبریں ختم ہو جاتیں، مگر یہاں اموات کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے۔ ایک ماہ میں پچاس بچوں کی اموات انسانی المیہ ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جو اگر بروقت غذائیت، حفاظتی ٹیکے، صاف پانی اور بنیادی علاج پا لیتے تو آج زندہ ہوتے۔ مگر افسوس کہ تھرپارکر آج بھی ترقیاتی منصوبوں، بجٹ تقاریر اور حکومتی دعوؤں میں تو موجود ہے، عملی اقدامات میں کہیں نہیں ہے۔ یہ بھی قابل ِ غور ہے کہ جب کسی بڑے شہر میں کوئی واقعہ ہوتا ہے تو میڈیا، انتظامیہ اور سیاست سب متحرک ہو جاتے ہیں، مگر تھر کے بچوں کی موت اکثر ایک معمول کی خبر بن کر رہ جاتی ہے۔ چند بیانات، چند دورے، چند امدادی اعلانات، اور پھر خاموشی اور پھر اس خاموشی میں ہی مزید بچے دم توڑ دیتے ہیں۔ تھرپارکر کا مسئلہ صرف صحت کا نہیں بلکہ ایک جامع سماجی بحران ہے۔ ماں کی صحت بہتر کیے بغیر بچے کی جان نہیں بچائی جا سکتی ہے۔ تعلیم، غذائیت، صاف پانی، زچگی کی سہولتیں اور مستقل طبی نگرانی، یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ وقتی ریلیف کیمپ، فوڈ پیکٹس اور ہنگامی بیانات اس مسئلے کا حل نہیں ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ تھر کو مستقل بنیادوں پر صحت، غذائیت اور ماں بچہ نگہداشت کے پروگرام دیے جائیں، نہ کہ صرف بحران کے وقت یاد کیا جائے۔ریاست اور صوبائی حکومت کے لیے یہ لمحہ ٔ فکر ہے کہ آخر کب تک تھر کے بچے اپنی جانوں سے یہ سوال دہراتے رہیں گے؟ کب غذائی قلت کو ’’قدرتی مسئلہ‘‘ کہہ کر بری الذمہ ہونے کا سلسلہ ختم ہوگا؟ اور کب تھر کے بچوں کو بھی وہی حق ِ زندگی ملے گا جو اس ملک کے دیگر علاقوں کے بچوں کو حاصل ہے؟ یہ بچے بھی پاکستان کا مستقبل تھے۔ اگر آج ہم نے ان کی موت کو معمول سمجھ لیا تو کل یہ بے حسی پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ تھرپارکر صرف امداد نہیں، انصاف اور مستقل توجہ مانگ رہا ہے اور یہ توجہ اب مزید تاخیر کی متحمل نہیں ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غذائی قلت بچوں کی جاتا ہے کے بچوں کہ تھر تھر کے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔