عمران خان کی دائیں آنکھ کا آپریشن کیا گیا،ڈائریکٹر پمز اسپتال
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)پمز اسپتال اسلام آباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے بانی پی ٹی آئی کے علاج کی تفصیلات بتا دیں۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمزرانا عمران سکندر کے مطابق بانی پی ٹی آئی کودائیں آنکھ کی بینائی میں کمی کی شکایت کے باعث طبی معائنے سے گزاراگیا، ایک سینئر ڈاکٹر نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی معائنہ کیا، بانی پی ٹی آئی کے تمام ضروری طبی ٹیسٹ بھی کیے گئے۔ ابتدائی طبی معائنے کے بعدڈاکٹروں نے انہیں مزیدعلاج کیلیے اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت محسوس کی، ایگزیکٹو ڈائریکٹرپمزکاکہنا ہے کہ تجویز کردہ طبی پروسیجر کیلیے بانی پی ٹی آئی کو پمز اسپتال لایا گیا، جہاں ان کی اجازت سے آنکھ کا آپریشن کیا گیا۔ رانا عمران سکندر کے مطابق آپریشن کامیابی سے مکمل ہوا،بانی پی ٹی آئی کا آپریشن تقریباً 20 منٹ تک جاری رہا،جس کے بعد انہیں ڈسچارج کر دیا گیا تھا، اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کی بیماری اور علاج کے طریقہ کار سے مکمل طور پر آگاہ کیا گیا اور علاج سے قبل ان سے تحریری رضامندی بھی حاصل کی گئی۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ علاج آپریشن تھیٹر میں جراثیم سے پاک ماحول میں طبی ماہرین کی نگرانی میں کیا گیا۔ علاج کے دوران مریض کی تمام وائٹل علامات مستحکم رہیں اور کسی پیچیدگی کی اطلاع نہیں ملی۔پمز انتظامیہ کے مطابق علاج کے بعد بانی پی ٹی آئی کو ضروری ہدایات، فالو اپ مشورے اور متعلقہ دستاویزات فراہم کر کے ڈسچارج کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی کیا گیا
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔