مسلمان نوجوانوں کیخلاف اسرائیل کی ایک انوکھی سازش
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
ذرائع کے مطابق ان اکاونٹس کا مقصد نوجوانوں کو اپنا ہم خیال بنا کر ایران میں رجیم چینج کیلئے حمایت حاصل کرنا ہے۔ اس کیلئے یہودی لڑکیاں، خود کو ایرانی ظاہر کرکے، فارسی بول کر نوجوانوں کو دام میں پھنساتی ہیں اور انہیں مزید لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے کیلئے ٹاسک دیتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ مسلم امہ کی بقاء کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مسلمان نوجوانوں کیخلاف اسرائیل نے ایک انوکھی سازش تیار کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی لڑکیوں کے نام سے جعلی اکاونٹس فعال کر دیئے گئے ہیں، جن کے ذریعے جعلی ایرانی لڑکیاں مسلم دنیا کے نوجوانوں کیساتھ دوستی کرتی ہیں اور انہیں اسرائیلی مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سارے جعلی اکاونٹس اسرائیل اور امریکہ سے آپریٹ ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے مسلمان نوجوانوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے جعلی اکاونٹس سے خبردار رہیں، اور دشمن کے جال میں پھنسنے سے گریز کریں۔ ذرائع کے مطابق ان اکاونٹس کا مقصد نوجوانوں کو اپنا ہم خیال بنا کر ایران میں رجیم چینج کیلئے حمایت حاصل کرنا ہے۔ اس کیلئے یہودی لڑکیاں، خود کو ایرانی ظاہر کرکے، فارسی بول کر نوجوانوں کو دام میں پھنساتی ہیں اور انہیں مزید لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے کیلئے ٹاسک دیتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ مسلم امہ کی بقاء کے نام پر کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کو اپنا ہم خیال نوجوانوں کو
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔